خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 498
خطبات مسرور جلد چہارم 498 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 ہیں۔اور جب ہمارا آخری وقت آئے تو اس صورت میں جائیں کہ نیکیوں میں ہمارا شمار ہو۔پھر ایک دعا سکھائی کہ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ( آل عمران : 148) کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور اپنے معاملے میں ہماری زیادتی بھی۔اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور ہمیں کا فرقوم کے خلاف نصرت عطا کر۔پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جو یہ دعا ئیں ہمیں سکھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ گناہ نہ بخشنے والا ہوتا تو یہ دعا نہ سکھاتا۔پس یہ ہے ہمارا خدا جو ہمیں یہ دعائیں سکھا رہا ہے کہ ہم نیکیوں پر قائم رہیں اور گزشتہ گناہوں کی معافی مانگیں۔پھر یہ بھی ہو کہ ہم کہیں جان بوجھ کر ان برائیوں کو دُہرانے والے نہ ہوں ، ان غلطیوں میں دوبارہ پڑ جانے والے نہ ہوں۔آجکل پاکستان سمیت بعض ملکوں میں احمدیوں کے خلاف جو وقتا فوقتا کوئی نہ کوئی شوشہ اٹھتا رہتا ہے، محاذ کھڑے ہوتے رہتے ہیں تو ہمیں اس دعا کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے تا کہ ثبات قدم بھی رہے ہم اپنے دین پر قائم بھی رہیں اور مخالفین کے خلاف اللہ تعالی مددبھی فرما تار ہے۔پھر ایک دعا سکھائی کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الخسِرِيْنَ (الاعراف:24) کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم گھانا کھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحم کو سمیٹنے کے لئے یہ بہت اہم دعا ہے۔بعض گناہ لاعلمی میں ہو جاتے ہیں، احساس نہیں ہوتا اس لئے مستقلاً استغفار بہت ضروری ہے تا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بداثرات سے محفوظ رکھے اور برائیاں کرنے سے بھی بچاتا رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” بہت لوگ ہیں کہ خدا پر شکوہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو نہیں دیکھتے جب کوئی سزا آتی ہے، کوئی پکڑ آتی ہے تو خدا پر شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔بجائے اس کے کہ اپنے آپ کو دیکھیں کہ خود کتنی نیکیاں کرنے والے ہیں، کس حد تک اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہیں۔فرمایا کہ انسان کے اپنے نفس کے ظلم ہی ہوتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کروایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا ہو، اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔انسان کے جسم کا ہر عضو گناہ کرتا ہے۔تو ہر ایک سے بچنے کی کوشش کرنی