خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 470
خطبات مسرور جلد چہارم 470 انصاف کو قائم فرما کر نہایت عاقلانہ تدبیریں اختیار کیں“۔خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 (Edward Gibbon'The History of the Decline and Fall of the Roman Empire' Vol۔V۔Page 315۔Penguins Classics(1st published 1788۔this edition 1996) کاؤنٹ ٹالسٹائے لکھتے ہیں کہ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک عظیم المرتبت مصلح تھے جنہوں نے انسانوں کی خدمت کی۔آپ کے لئے یہ فخر کیا کم ہے کہ آپ امت کو نور حق کی طرف لے گئے اور اسے اس قابل بنا دیا کہ وہ امن و سلامتی کی دلدادہ ہو جائے۔زہد و تقویٰ کی زندگی کو ترجیح دینے لگے۔آپ نے اسے انسانی خونریزی سے منع فرمایا۔اس کے لئے حقیقی ترقی اور تمدن کی راہیں کھول دیں۔اور یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جو اس شخص سے انجام پاسکتا ہے جس کے ساتھ۔کوئی مخفی قوت ہو اور ایک شخص یقیناً عام اکرام و احترام کا مستحق ہے۔(Count Tolstoy۔Islamic Network۔accessed from http://www۔islaam۔net/main/) پھر برنارڈ شا لکھتے ہیں کہ ازمنہ وسطی میں عیسائی راہبوں نے جہالت اور تعصب کی وجہ سے مذہب اسلام کی بڑی بھیا نک تصویر پیش کی ہے۔بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔انہوں نے تو حضرت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا۔میں نے ان باتوں کا بغور مطالعہ اور مشاہدہ کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں انسانیت کے نجات دہندہ ہیں۔(George Bernard Shaw 'The Genuine Islam' Vol۔1 No۔8 (1936) accessed from Wikipedia from:http://en۔wikipedia۔org/wiki/Non-Islamic-views -of- Muhammad) پھر ایک عیسائی مؤرخ پریورنڈ با سورتھ سمتھ کہتے ہیں کہ مذہب اور حکومت کے رہنما اور گورنر کی حیثیت سے پوپ اور قیصر کی دو شخصیتیں حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ایک وجود میں جمع تھیں۔آپ پوپ تھے مگر پوپ کی طرح ظاہر داریوں سے پاک۔آپ قیصر تھے لیکن قیصر کے جاہ وحشم سے بے نیاز۔اگر دنیا میں کسی شخص کو یہ کہنے کا حق حاصل ہے کہ اس نے باقاعدہ فوج کے بغیر محل شاہی کے بغیر اور لگان کی وصولی کے بغیر صرف خدا کے نام پر دنیا میں امن و انتظام قائم رکھا تو وہ صرف محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔آپ کو اس ساز وسامان کے بغیر ہی سب کی سب طاقتیں حاصل تھیں“۔(R۔Bosworth Smith 'Muhammad and Muhammadanism' pade 262۔Book Tree۔(1st published 1876, this edition 2002) پھر پر نگل کینیڈی صاحب لکھتے ہیں کہ کھلے لفظوں میں ( کہا جائے تو ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) زمانے کے عظیم انسان تھے۔آپ کی حیران کن کامیابی کے لئے ہمیں لازماً ان کے حالات زمانہ کو سمجھنا چاہئے۔حضرت عیسی کی پیدائش کے ساڑھے پانچ سو سال بعد آپ اس دنیا میں تشریف لائے۔اس زمانے میں یونان، روم اور بحیرہ عرب کی ایک سو ایک ریاستوں کے تمام قدیم مذاہب اپنی افادیت کھو چکے تھے۔اس کی جگہ رومن حکومت کا دبدبہ ایک زندہ حقیقت کا روپ دھار چکا تھا اور شہنشاہ قیصر روم کے مطابق