خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 455

455 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم حاجتمندوں کے لئے دعا کرتا تھا مولا کریم اسی وقت میرے معروضات کو شرف قبولیت بخش کر لوگوں کی مشکل کشائی فرما دیتا تھا۔چنانچہ ایک موقع پر جب میں موضع سعد اللہ پور گیا۔تو میں نے چوہدری اللہ داد صاحب کو ، جو چوہدری عبداللہ خاں صاحب نمبردار کے برادر زادہ تھے اور ابھی احمدیت سے مشرف نہ ہوئے تھے ، مسجد کی دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا کہ وہ بے طرح دمہ کے شدید دورہ میں مبتلا تھے اور سخت تکلیف کی وجہ سے نڈھال ہو رہے تھے۔میں نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے 25 سال سے پرانا دمہ ہے جس کی وجہ سے زندگی دوبھر ہوگئی ہے۔میں نے علاج معالجہ کی نسبت پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ڈور ڈور کے قابل طبیبوں اور ڈاکٹروں سے علاج کروا چکا ہوں مگر انہوں نے اس بیماری کو موروثی اور مزمن ہونے کی وجہ سے لا علاج قرار دے دیا ہے۔اسی لئے اب میں اس کے علاج سے مایوس ہو چکا ہوں۔میں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کسی بیماری کو لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ کے فرمان سے لا علاج قرار نہیں دیا۔آپ اسے لاعلاج سمجھ کر مایوس کیوں ہوتے ہیں؟۔کہنے لگے اب مایوسی کے سوا اور کیا چارہ ہے۔میں نے کہا ہمارا خدا تو فَعَالُ لِمَا يُرِيد ہے اس نے فرمایا ہے کہ لَا تَايْتَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ۔إِنَّهُ لَا يَايْتَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُوْنَ ) یعنی پاس اور کفر تو اکٹھے ہو سکتے ہیں لیکن ایمان اور یاس اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اس لئے آپ نا امید نہ ہوں اور ابھی پیالے میں تھوڑا سا پانی منگوائیں۔میں آپ کو دم کر دیتا ہوں۔کہتے ہیں کہ انہوں نے اسی وقت پانی منگوایا اور میں نے اللہ تعالیٰ کی صفت شافی سے استفادہ کرتے ہوئے اتنی توجہ سے اس پانی پر دم کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی اس صفت کے فیوض سورج کی کرنوں کی طرح اس پانی میں برستے ہوئے نظر آئے۔اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ اب یہ پانی افضال ایز دی اور حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی برکت سے مجسم شفا بن چکا ہے۔چنانچہ جب میں نے یہ پانی چوہدری اللہ داد صاحب کو پلایا تو آن کی آن میں دمہ کا دورہ رک گیا۔اور پھر اس کے بعد کبھی انہیں یہ عارضہ نہیں ہوا۔حالانکہ اس واقعہ کے بعد چوہدری صاحب قریباً 15-16 سال تک زندہ رہے۔اور اس قسم کے نشانات سے اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب موصوف کو احمدیت بھی نصیب فرمائی اور آپ خدا کے فضل سے مخلص اور احمدی مبلغ بن گئے۔حیات قدسی حصہ اول صفحہ 49 تا 51) مولوی عبد القادر صاحب، مولوی محب الرحمن صاحب کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آخری عمر میں آپ بہت بیمار ہوئے۔ڈاکٹروں نے کہ دیا کہ پھیپھڑے بالکل گل چکے ہیں۔چند یوم کے مہمان ہیں۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔ایک