خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 450

خطبات مسرور جلد چہارم 450 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 ہے لیکن بولتا نہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ جو ذات سنتی اور دیکھتی ہے وہ بول بھی سکتی ہے۔میں نے کہا ابھی مجھے اس مجلس میں الہام ہو گیا ہے۔(وہاں بیٹھے بیٹھے ہی ماسٹر عبدالرحمن صاحب کو الہام ہو گیا کہ پہلے سوال بتا دیا جائے گا۔تو طلباء نے کہا کہ ہم نے تو نہیں سنا۔اس پر یہ کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ تمہارا خون خراب ہو گیا ہے۔اسے قادیان سے درست کر لو تو تم کو بھی الہام کی آواز سنائی دے گی۔کہتے ہیں کہ دوسرے تیسرے دن میں لیٹا تھا۔تکیہ پر سر رکھتے ہی کشفی حالت طاری ہو گئی اور مجھے ریاضی کا (حساب کا ) پر چہ سامنے دکھایا گیا۔لیکن کہتے ہیں مجھے پہلا سوال ہی یا در ہا۔امتحانوں میں وہ سوال جو میں نے لڑکوں کو بتادیا تھا وہ آ گیا۔یہ دیکھ کر باقی جہاں حیرت میں ڈوب گئے ، ایک شخص عبدالحمید جو ایم اے تھے اور کسی جگہ کے ہیڈ ماسٹر ٹریننگ کے لئے آئے ہوئے تھے ، اور دہر یہ تھے، ان کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ یہ بات سن کے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل ہو گئے۔کسی نے کہا یہ اتفاق ہوا ہے۔آخر بحث چلتی رہی۔پھر سب نے کہا کوئی اور امرغیب دکھاؤ۔اس پر میں نے کہا اچھا میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ قادر ہے کوئی اور غیب دکھا دے۔کہتے ہیں کہ انہیں دنوں میں مجھے الہام ہوا بچہ ہے بچہ ہے، بچی نہیں ہے۔یہ کہتے ہیں کہ ان دنوں میرے گھر میں ولادت ہونے والی تھی تو ان لڑکوں نے جو عیسائی ہندو وغیرہ دوسرے غیر احمدی تھے انہوں نے صوفی غلام محمد صاحب کے ذریعہ جو وہاں پڑھتے تھے، ان کی بیوی سے قادیان سے میرے گھر کے حالات پتہ کروائے تو پتہ چلا کہ میرے گھر میں ولادت ہونے والی ہے۔چنانچہ دو تین ماہ بعد ان کی بیوی کا خط آیا کہ سردار عبدالرحمن صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے ان سب کی دعوت کی اور انہیں کہا کہ اگر تم گرجے یا مندر یا ٹھا کر دوارے میں جا کر پوجا پاٹ کرتے رہو اور وہاں سے کوئی جواب نہ آئے تو سمجھو کہ خدا کی عبادت نہیں کر رہے بلکہ مصنوعی خدا کی خود ساختہ تصویر ہے جس کی عبادت کرتے ہو۔کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ اب میری قبولیت دعا کی وجہ سے جو میں نے پیشگوئیاں کی تھیں ان کی تحریری شہادت دے دو۔یوسف خاں اور پیٹر جی ایک عیسائی تھے وہ بہانے بناتے رہے۔تو اس پر میں نے ان کو کہا کہ اگر گواہی لکھ دو تو پاس ہو جاؤ گے ورنہ فیل ہو جاؤ گے۔چنا نچہ نتیجہ نکلا تو سارے لڑکے پاس تھے اور وہ دونوں فیل تھے۔( اصحاب احمد جلد 7 صفحہ 73 تا 75 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب کی قبولیت دعا کے بارے میں مولوی عبد الرحیم صاحب عارف مبلغ ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ ہماری جماعت میں ماسٹر صاحب پڑھا رہے تھے تو ایک خط آنے پر بڑے فکرمند ہو گئے اور ٹہلنے لگے۔پھر ایک کھڑکی کی طرف منہ کر کے دعا کرنے لگے۔تو میرے دریافت کرنے پر فرمایا