خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 448
448 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم ہمارے گاؤں سے جانب شمال دو کوس کے فاصلہ پر واقع ہے وہاں کے اکثر زمیندار ہمارے بزرگوں کے ارادتمند تھے۔جب انہوں نے جیون خان ساکن دھدرہ کی بیماری اور معجزانہ صحت یابی کا حال سنا تو ان میں سے خان محمد زمیندار میرے والد صاحب کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرا چھوٹا بھائی جان محمد عرصہ سے تپ دق کے عارضہ میں مبتلا ہے۔آپ از راہ نوازش میاں غلام رسول صاحب کو فرمائیں کہ وہ کسی وقت ہمارے گھر ٹھہریں اور جان محمد کے لئے دعا کریں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی صحت عطا فرما دے۔چنانچہ ان کی درخواست پر والد صاحب نے مجھے ارشاد فرمایا۔میں وہاں چلا گیا وضو کر کے نماز میں اس کے بھائی کیلئے دعا شروع کر دی۔سلام پھیرتے ہی میں نے اس سے دریافت کیا کہ اب جان محمد کی حالت کیسی ہے۔گھر والوں نے جواب دیا کہ بخار بالکل اتر گیا ہے اور کچھ بھوک کی حالت بھی محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد چند ہی دنوں کے اندر اس کے کمزورنا تو اں جسم میں طاقت آ گئی اور چلنے پھرنے لگ گیا۔آپ فرماتے ہیں کہ اس نشان کو دیکھ کر اگر چہ ان لوگوں کے اندر احمدیت کے متعلق کچھ حسن ظنی پیدا ہوئی مگر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حلقہ بیعت میں کوئی شخص نہ آیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ اس مریض کو جو صحت دی گئی ہے وہ ان لوگوں پر اتمام حجت کی غرض سے ہے اور اگر انہوں نے احمدیت کو قبول نہ کیا تو یہ مریض اسی شعبان کے مہینے کی اٹھائیسویں تاریخ کی درمیانی شب قبر میں ڈالا جائے گا۔چنانچہ میں نے بیدار ہوتے ہی قلم اور دوات منگوائی اور یہ الہام الہی کا غذ پر لکھا اور اسی گاؤں کے بعض غیر احمدیوں کو دے دیا اور تلقین کی کہ اس پیشگوئی کو تعیین موت کے عرصے سے پہلے ظاہر نہ کریں۔اس کے بعد میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بارگاہ اقدس میں قادیان چلا آیا اور یہیں رمضان مبارک کا مہینہ گزارا۔خدا تعالیٰ کی حکمت کہ جب جان محمد بظاہر صحت یاب ہو گیا اور جابجا اس معجزہ کا چرچا ہونے لگا تو اس مرض نے دوبارہ حملہ کیا اور وہ ٹھیک شعبان کی انیسویں رات ( میرا خیال ہے یہ شاید غلطی ہے۔اٹھائیس یا انیسویں جو بھی رات تھی۔یا وہاں غلط ہے یا یہاں غلط ہے ) اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔اور اس کے مرنے کے بعد جب ان غیر احمدیوں نے میری تحریر لوگوں کے سامنے رکھی تو ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔مگر افسوس ہے کہ پھر بھی ان لوگوں نے احمدیت کو قبول نہ کیا۔حیات قدسی حصہ اول صفحہ 28 تا 30 نشان دیکھتے ہیں پھر بھی اثر نہیں ہوتا۔حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب جو سکھ خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور پھر حق کی تلاش کرتے ہوئے احمدی ہو گئے۔احمدی ہونے کے بعد ان کو تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔گو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے