خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 444

خطبات مسرور جلد چهارم 444 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 نے اللہ تعالیٰ کو ان سے راضی کیا۔اور وہ اپنے پیارے خدا سے اس طرح راضی ہوئے کہ دنیا کی ہر لالچ کو انہوں نے ٹھوکروں سے اڑا دیا۔اور وہ لوگ بعد میں آنے والوں کے لئے ہدایت کا باعث بنے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے یہ سند حاصل کی جس کا ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت عمرؓ بن خطاب بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی کہ اے محمد ! تیرے صحابہ کا میرے نزدیک ایسا مرتبہ ہے جیسے آسمان میں ستارے ہیں۔بعض بعض سے روشن تر ہیں لیکن نور ہر ایک میں موجود ہے۔پس جس نے تیرے کسی صحابی کی پیروی کی میرے نزدیک وہ ہدایت یافتہ ہو گا۔حضرت عمر بن خطاب نے یہ بھی کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی بھی تم اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔(مشكوة كتاب المناقب الصحابة الفصل الثالث صفحه 554 ) پس ان روشن ستاروں نے دنیا کو ہدایت دی۔ایک دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچایا، ایک دنیا کو اپنے پیدا کرنے والے خدا کے قریب کیا، عرب سے باہر کی دنیا میں یہ صحابہ گئے اور اللہ تعالیٰ پر توکل ، ایمان اور دعاؤں سے لوگوں نے اُن کے ہاتھوں سے دنیا میں معجزے عمل میں آتے دیکھے۔پھر جب بڑی بڑی طاقتوں نے جو ہدایت کی ان قندیلوں کو بجھانا چاہتی تھیں، جو انہیں ختم کرنے کے در پے تھیں اُن سے ٹکر لی تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہوئے اور اپنی دعاؤں کی قبولیت دیکھتے ہوئے انہوں نے ان طاقتوں سے مقابلہ کیا تو میدان پر میدان مارتے چلے گئے۔اس کی ایک دو مثالیں یہاں پیش کرتا ہوں۔تاریخ میں یہ ذکر ملتا ہے کہ ایران کے خلاف جب جنگ ہوئی تو سب لوگ تستر کے مقام پر جمع ہوئے۔اور اہل فارس کے سپہ سالار ہرمزان اور ان کی ایرانی افواج اور پہاڑوں پر رہنے والے اور اہواز کے لشکر خندقوں میں بیٹھے تھے۔حضرت عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو ان کی امداد کے لئے بھیجا اور اہل بصرہ پر حاکم بنا دیا۔اور باقی تمام علاقہ پر ابوسبر کو مقرر کیا۔مسلمانوں نے کئی مہینے تک ان کا محاصرہ کئے رکھا، اکثر کو تہ تیغ کیا۔اس محاصرے میں حضرت براء بن مالک جو حضرت انس بن مالک کے بھائی تھے شہید ہو گئے۔ان کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے سو مرتبہ مبارزت کی تھی اور آخری بار شہید ہو گئے تھے۔آپ ہی کی طرح مجزأة بن ثور اور کعب بن سُور اور اہل کوفہ اور اہل بصرہ میں سے متعد دلوگ شہید ہوئے تھے۔جنگ ستر کے دوران مشرکین نے ان پر اسی (80) با حملہ کیا اور کبھی یہ غالب آتے اور کبھی وہ۔بہت شدید جنگ ہوتی رہی۔جب آخری حملہ میں شدید جنگ ہو رہی تھی تو مسلمانوں نے حضرت براء