خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد چهارم 443 (36 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور صحابہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیت دعا کے نہایت ایمان افروز واقعات کا روح پرور بیان آج روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہر احمدی کو دعاؤں کے ذریعہ سے، اپنی عبادتوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق جوڑ کر ان برگزیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے ، جو روشن ستاروں کی طرح آسمان پر چمک رہے ہیں فرموده مؤرخہ 08 ستمبر 2006ء (08 رتبوک 1385 ہجری شمسی) مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نے عرب کے رہنے والے مشرکین کی ایسی کا یا بیٹی کہ انہیں ایک خدا کی عبادت کرنے والا اور ہمہ وقت اس کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر کرنے والا بنادیا۔ان لوگوں نے اپنے آقا و مطاع کی پیروی میں اپنی راتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے گزارنا شروع کر دیا۔اُن لوگوں نے جہاں اپنے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی قبولیت کے نشان دیکھے۔وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں خود اپنی قبولیت کے نشانات بھی دیکھے۔اور یہی قبولیت کے نشانات اور اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان تھا جس نے ان کو مزید تو کل کرنے والا اور دعاؤں پر یقین کرنے والا بنا دیا اور پھر وہ اُس مقام تک پہنچ گئے جہاں وہ ہر روز اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظارے دیکھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے انہیں خدا تعالیٰ کی صفات کا فہم و ادراک عطا کیا۔ان کی عبادتوں