خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 442
خطبات مسرور جلد چهارم 442 خطبه جمعه کیم تمبر 2006 والوں کو خدا معجزہ دکھائے گا اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائے گی۔دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنی صفات میں تبدیلی کرتا ہے اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اس کی ایک الگ تجلی ہے جس کو دنیا نہیں جانتی گویا کہ وہ کوئی اور خدا ہے حالانکہ کوئی اور خدا نہیں۔مگر نئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا یہی وہ خوارق ہے۔غرض دعا وہ اکسیر ہے جو ایک مشت خاک کو کیمیا کر دیتی ہے اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھودیتا ہے۔اس دعا کے ساتھ روح پچھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھلائی ہے۔لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222 تا 224 پس اس جلسے پر ان دنوں میں دعاؤں پر بہت زور دیں۔نمازوں پر بہت زور دیں۔امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو مادی لحاظ سے اس وقت بہت زیادہ ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے۔اس میں رہتے ہوئے ہر احمدی کو اپنے آپ کو اس کی گندگیوں سے محفوظ رکھنے کی اور دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی انتہائی ضرورت ہے اور یہی جلسے کا فیضان ہے، یہی جلسے کا فیض ہے کہ آپ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر لیں۔اگر خدامل گیا تو ہم نے اپنے زندگی کے مقصد کو پالیا۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔