خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 441
خطبات مسرور جلد چهارم 441 خطبه جمعه یکم تمبر 2006 جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔آپ لوگوں نے یہ ذکر سنا کہ کس طرح ہمارے بزرگ اپنی زندگیاں بسر کرتے رہے۔دعاؤں اور نیکیوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو ڈھالیں تا کہ دنیا کے ہر کونے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے فیض پانے والوں کا ایسا گروہ تیار ہو جائے جو تو حید کو قائم رکھنے والا اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق قائم کرنے والا ہو۔اور یہ کام اللہ کے فضل کو جذب کرنے سے ہی ہو گا۔اور اللہ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ، عبادات کی ضرورت ہے۔پس ان تین دنوں میں امریکہ میں جلسہ ہو رہا ہے یا دنیا میں کہیں اور کسی جماعت میں اگر جلسے ہو رہے ہیں تو اس سوچ کے ساتھ اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے کوشش بھی کریں اور دعا بھی کریں۔اللہ تعالیٰ جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھ دیتا ہوں اس کو ہر وقت سامنے رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔وہ رحمت کو کھینچنے والی مقناطیسی کشش ہے۔وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس۔تریاق ہو جاتا ہے۔مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں۔تھکتے نہیں۔کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں سست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔مبارک تم جبکہ دعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دعا کے لئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینے میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے۔اور تمہیں تنہائی کا ذوق اٹھانے کیلئے اندھیری کوٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنا دیتی ہے۔کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں، نہایت کریم و رحیم ، حیا والا ، صادق وفادار، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔دنیا کے شور و غوغا سے الگ ہو جاؤ اور نفسانی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔خدا کے لئے ہار اختیار کر لو اور شکست کو قبول کر لوتا بڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ۔دعا کرنے