خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 427
خطبات مسرور جلد چہارم 427 خطبہ جمعہ 25 /اگست 2006 صاحب میں نے دعا کر کے عربی لکھنی شروع کی تو یہ بہت ہی آسان معلوم ہوئی۔چنانچہ پہلے میں نے نظم ہی لکھی اور کوئی سو شعر عربی میں لکھ کر لے آیا ہوں، آپ سنئے۔یہ عربی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی پہلی تصنیف تھی اور کتاب آئینہ کمالات اسلام میں درج ہوئی۔اس کے بعد آپ نے کئی کتا بیں عربی میں تصنیف کیں اور زمانے بھر کے علماء کو چیلنج کیا کہ کوئی آپ کے مقابلے میں ایسی فصیح و بلیغ معنی و معارف اور حقائق سے پُر عبارت عربی زبان میں لکھ کر دکھائے مگر کسی کو طاقت نہیں ہوئی کہ اس مقابلے کے لئے کھڑا ہوتا۔لکھتے ہیں کہ الغرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام کاروبار کا انحصار دعاؤں پر تھا۔آپ کی زندگی کے اوقات کا اکثر حصہ دعاؤں میں گزرتا تھا۔ہر کام سے قبل آپ دعا ئیں کیا کرتے تھے اور اپنے دوستوں کو بھی دعاؤں کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔دعا کو آپ ایک عظیم الشان نعمت یقین کرتے تھے کسی اور ذریعے کو آپ ایسا عظیم التاثیر نہیں بتلاتے تھے جیسا کہ دعا ہے اور دعا کو اسباب طبعیہ میں سے ایک سبب بتلاتے تھے۔سیرت حضرت مسیح موعود علیه السلام از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 527,526) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:۔یادر ہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچاننے کے لئے دعا کا قبول ہونا بھی ایک بڑا نشان ہوتا ہے بلکہ استجابت دعا کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں۔کیونکہ استجابت دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جناب الہی میں قدر اور عزت ہے۔اگر چہ دعا کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں۔کبھی کبھی خدائے عزوجل اپنی مرضی بھی اختیار کرتا ہے۔لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مقبولین حضرت عزت کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے کثرت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعا کے مرتبہ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہزار ہا میری دعائیں قبول ہوئی ہیں۔اگر میں سب کو لکھوں تو ایک بڑی کتاب ہو جائے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 334) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔دعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتداء سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے۔جب خداتعالی کا ارادہ کسی بات کے کرنے کیلئے توجہ فرماتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔تب اُس مرد فانی کی دعائیں فیوض الہی کو آسمان سے بھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جائے۔یہی دعا ہے جس سے خدا پہچانا