خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 426
426 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم حضرت اقدس کی اس تحریر کے کچھ مہینوں بعد اس گورنمنٹ انگریزی نے جس کی خوشنودی کی خاطر نواب صاحب نے براہین احمدیہ کے خریدنے سے انکار کیا تھا، آپ پر ایک سیاسی مقدمہ بنا دیا اور نوابی کا خطاب بھی نواب صدیق حسن خان سے واپس لے لیا جس کی وجہ سے نواب صاحب کو بے انتہا پریشان ہونا پڑا۔ان مسائل سے نکلنے کے لئے انہوں نے بہت کوشش کی ، بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن کوئی کوشش کارگر نہ ہوئی۔اس کے متعلق حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:۔نواب صاحب صدیق حسن خان پر جو یہ ابتلا پیش آیا وہ بھی میری ایک پیشگوئی کا نتیجہ ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔انہوں نے میری کتاب براہین احمدیہ کو چاک کر کے واپس بھیج دیا تھا۔میں نے دعا کی تھی کہ ان کی عزت چاک کر دی جائے سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 470 حاشیہ) نواب صاحب کو جب اپنے قصور کا احساس ہوا ( کچھ عرصے کے بعد ان کو احساس ہو گیا تھا کہ میرے سے غلطی ہو گئی ہے) پھر انہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑے انکسار کے ساتھ بذریعہ خط دعا کی درخواست کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:۔تب میں نے اس کو قابل رحم سمجھ کر اس کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے کو مخاطب کر کے فرمایا کہ سرکوبی سے اس کی عزت بچائی گئی آخر کچھ مدت کے بعد ان کی نسبت گورنمنٹ کا حکم آگیا کہ صدیق حسن خان کی نسبت نواب کا خطاب قائم رہے۔“ ( تتمہ حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 470) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کی قبولیت کے ایک علمی معجزے کے بارے میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے لکھا ہے کہ اپنے ابتدائی ایام تصانیف میں ( جب شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کتابیں لکھ رہے تھے ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی کتاب عربی زبان میں نہیں لکھی تھی بلکہ تمام تصانیف اردو میں یا نظم کا حصہ فارسی میں لکھا۔ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضور کچھ عربی میں بھی لکھیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی سادگی اور بے تکلفی سے فرمایا کہ میں عربی نہیں جانتا۔مولوی عبدالکریم صاحب بے تکلف آدمی تھے، انہوں نے عرض کیا کہ میں کب کہتا ہوں کہ حضور عربی جانتے ہیں، میری غرض تو یہ ہے کہ کوہ طور پر جایئے اور وہاں سے کچھ لائیے۔فرمایا ہاں دعا کروں گا۔( ان کا مطلب یہ تھا کہ دعا کریں، اللہ میاں سے مانگیں ) اس کے بعد آپ تشریف لے گئے اور جب دوبارہ باہر تشریف لائے تو ہنستے ہوئے فرمایا کہ مولوی