خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 418 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 418

418 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم اس کے رسول کی پیروی کی۔اور کیا بد نصیب وہ لوگ ہیں جو اس ذو العجائب خدا پر ایمان نہیں لائے۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 245 246 ) جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ طاعون بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تائیدی نشانوں میں سے ایک نشان کے طور پر بھیجا تھا ، جس سے ہندوستان میں لاکھوں آدمی موت کا لقمہ بنے۔اور اللہ تعالیٰ نے آپکو بتایا تھا کہ آپکے ماننے والے اور گھر میں رہنے والے اس بیماری سے محفوظ رہیں گے۔یہ بہت بڑا نشان تھا لیکن انہیں دنوں میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تیسرے صاحبزادے تھے، وہ تیز بخار کی وجہ سے بہت شدید بیمار ہو گئے ، جس پر حضرت اقدس کو بڑی فکر ہوئی۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود فرماتے ہیں کہ :- طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میر الڑ کا شریف احمد بیمار ہوا اور ایک سخت تپ محرقہ کے رنگ میں چڑھا جس سے لڑکا بالکل بے ہوش ہو گیا اور بے ہوشی میں دونوں ہاتھ مارتا تھا۔مجھے خیال آیا کہ اگر چہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑ کا ان دنوں میں جو طاعون کا زور ہے فوت ہو گیا تو تمام دشمن اس تپ کو طاعون ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کی اُس پاک وحی کی تکذیب کریں گے کہ جو اس نے فرمایا ہے۔اِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِی الدَّارِیعنی میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چاردیوار کے اندر ہے طاعون سے بچاؤں گا۔اس خیال سے میرے دل پر وہ صدمہ وارد ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔قریباً رات کے بارہ بجے کا وقت تھا کہ جب لڑکے کی حالت ابتر ہو گئی اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ معمولی تپ نہیں یہ اور ہی بلا ہے۔تب میں کیا بیان کروں کہ میرے دل کی کیا حالت تھی کہ خدا نخواستہ اگر لڑ کا فوت ہو گیا تو ظالم طبع لوگوں کو حق پوشی کیلئے بہت کچھ سامان ہاتھ آ جائے گا۔اسی حالت میں میں نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑا ہو گیا اور معا کھڑا ہونے کے ساتھ ہی مجھے وہ حالت میسر آ گئی جو استجابت دعا کیلئے ایک کھلی کھلی نشانی ہے اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ابھی میں شاید تین رکعت پڑھ چکا تھا کہ میرے پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور میں نے کشفی نظر سے دیکھا کہ لڑکا بالکل تندرست ہے۔تب وہ کشفی حالت جاتی رہی اور میں نے دیکھا کہ لڑکا ہوش کے ساتھ چار پائی پر بیٹھا ہے اور پانی مانگتا ہے اور میں چار رکعت پوری کر چکا تھا۔فی الفور اس کو پانی دیا اور بدن پر ہاتھ لگا کر دیکھا کہ تپ کا نام ونشان نہیں اور ہذیان اور بیتابی اور بیہوشی بالکل دور ہو چکی تھی اور لڑکے کی حالت بالکل تندرستی کی تھی۔مجھے اس خدا کی قدرت کے نظارہ نے الہی طاقتوں اور دعا قبول ہونے پر ایک تازہ ایمان بخشا۔“ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 88,87 حاشیہ)