خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 416

خطبات مسرور جلد چہارم 416 خطبه جمعه 25 /اگست 2006 ہے اور درد اور سرخی کی شدت کی وجہ سے میں بہت بے چین رہتی ہوں اور اپنی آنکھیں نہیں کھول سکتی ، آپ میری آنکھوں پر دم کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا تو میری آنکھیں واقعی خطرناک طور پر ابلی ہوئی تھیں اور میں درد سے بے چین ہو کر کراہ رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی انگلی پر اپنا تھوڑ اسا لعاب دہن لگایا اور ایک لمحے کے لئے رک کر ( جس میں شاید دعا فرمائی ہو ) بڑی شفقت اور محبت کے ساتھ اپنی انگلی میری آنکھوں پر آہستہ سے پھیری اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا بچی جاؤ اب خدا کے فضل سے تمہیں یہ تکلیف پھر کبھی نہیں ہو گی۔وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد آج تک جبکہ میں 70 سال کی بوڑھی ہو چکی ہوں کبھی ایک دفعہ بھی میری آنکھیں دکھنے نہیں آئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دم کی برکت سے میں اس تکلیف سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئی ہوں۔کہتی ہیں جس وقت دم کیا تھا اس وقت میری عمر صرف دس سال تھی اور آج ساٹھ سال ہو گئے ہیں اور آنکھوں میں کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔(سیرت طیبه از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 284,283 حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے بچپن کے ایک واقعہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت میر صاحب ایک دفعہ سخت بیمار ہو گئے اور حالت بہت تشویشناک ہوگئی اور ڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے متعلق دعا کی تو عین دعا کرتے ہوئے خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبِّ رَّحِیمِ یعنی تیری دعا قبول ہوئی اور خدائے رحیم و کریم اس بچے کے متعلق تجھے سلامتی کی بشارت دیتا ہے۔چنانچہ اس کے جلد بعد حضرت میر صاحب توقع کے خلاف بالکل صحت یاب ہو گئے اور خدا نے اپنے میسیج کے دم سے انہیں شفا عطا فرمائی۔(سیرت طیبہ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب صفحہ 287,286) پھر حضرت میاں بشیر احمد صاحب جن کے حوالوں کا ذکر آ رہا ہے، ان کو بھی بچپن میں آنکھوں کی تکلیف تھی۔جب ہر قسم کے علاج ناکام ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے لئے دعا کی اور دعانے پھر شفا کا معجزہ دکھایا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود فرماتے ہیں کہ :- ایک دفعہ بشیر احمد میر الڑ کا آنکھوں کی بیماری سے بیمار ہو گیا اور مدت تک علاج ہوتا رہا کچھ فائدہ نہ ہوا۔تب اسکی اضطراری حالت دیکھ کر میں نے جناب الہی میں دعا کی تو یہ الہام ہوا بَرَّقَ طِفْلِی بَشِیر یعنی میرے لڑکے بشیر نے آنکھیں کھول دیں۔تب اسی دن اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم سے اسکی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 89 بقیہ حاشیہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حقیقۃ الوحی میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔