خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 409

خطبات مسرور جلد چهارم 409 خطبہ جمعہ 18/اگست 2006 اس وقت آپ پر ہنسنے والے ہنستے ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہ صرف اس جنگ جیتنے کی دعا قبول ہوئی ہے بلکہ آئندہ کی حکومتیں ملنے کی بھی میں اطلاع دیتا ہوں۔اس موقع پر آپ کی دعا سے خوراک میں برکت پڑنے کا بھی واقعہ ہوا۔ایک صحابی جابر بن عبد اللہ نے آپ کے چہرے پر نقاہت اور بھوک کے آثار دیکھ کر گھر جا کر اپنی بیوی سے پتہ کیا کہ کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں کچھ جو کا آٹا ہے اور ایک چھوٹی بکری ہے۔انہوں نے بکری ذبح کی اور انہیں کہا کھانا پکاؤ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جا کر اطلاع کرتا ہوں۔تو بیوی نے کہا کہ زیادہ مہمان نہ آجائیں، مجھے ذلیل نہ کروانا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دینا۔تو جا بر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کچھ کھانا ہے ، آجائیں ، تناول فرما ئیں۔آپ نے پوچھا کتنا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ ایک چھوٹی سی بکری ہے اور جو کی چند روٹیاں ہیں۔آپ نے فرمایا یہ بہت ہے۔پھر آپ نے آواز دے کر کہا کہ انصار اور مہاجر سارے دعوت پر آ جاؤ۔حضرت جابر کہتے ہیں کہ میرے ہاتھ پیر پھول گئے ، بہت برا حال ہوالیکن آپ نے کہا کہ جاؤ جب تک میں نہ آ جاؤں سالن کی ہنڈیا چولہے پر رہنے دینا اور اس کو نہ اتارنا اور نہ روٹی پکانا شروع کرنا۔پھر آپ نے خود آ کر اپنے سامنے روٹی پکوانی شروع کی اور اپنے ہاتھ سے کھانا تقسیم کرنا شروع کیا۔اور آپ کی دعا کی قبولیت کے معجزے سے سب نے سیر ہو کر کھانا کھالیا۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوة الخندق و هى الاحزاب حدیث نمبر (4101 پھر دیکھیں آپ کی دعا کی قبولیت کے باوجود بنو قریظہ کی منافقت اور دس سے پندرہ ہزار فوج کے با وجود اللہ تعالیٰ نے اس طرح فتح عطا فرمائی کہ دشمن کو اپنی پڑ گئی۔اس کا مختصر قصہ یوں ہے کہ جب محاصرہ لمبا ہو گیا تو رات کے وقت اتنی سخت آندھی آئی کہ جس نے کفار کے بہت بڑے کیمپ میں جو کھلی جگہ پر تھا کھلبلی مچا دی۔خیمے اکھڑ گئے ، قناتوں کے پردے ٹوٹ کر اڑ گئے ، ہنڈیاں جو چولہوں پر پڑی ہوئی تھیں الٹ گئیں اور ریت اور کنکر کی بارش نے لوگوں کے کان ، ناک، آنکھ اور منہ ہر چیز بند کر دیا۔وہ آگئیں جو عرب کے دستور کے مطابق قومی نشان کے طور پر جلائی جاتی تھیں ، وہ بجھ گئیں۔یہ دیکھ کر وہم پرست کفار کے حوصلے بہت پست ہو گئے اور جو پہلے ہی ایک لمبے محاصرے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہورہے تھے، واضح طور پر کوئی چیز سامنے نہیں آرہی تھی کیونکہ ایک تو لمبا محاصرہ پھر اتنی بڑی فوج، اس کے کھانے پینے اور انتظامات کا سامان تو ان کی بھی کافی بری حالت تھی۔ان کو اس چیز سے بہت دھکہ لگا۔چنانچہ ابوسفیان جو اس سارے لشکر کا سپہ سالار تھا، کئی قبیلوں نے مشترکہ طور پر اس کو اپنا سالار بنایا تھا، وہ اپنے لشکر کو لے کر واپس چلا گیا اور ان کے دیکھا دیکھی باقی بھی جانے شروع ہو گئے اور صبح تک یہ میدان بالکل صاف ہو گیا۔جو