خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 405

405 خطبه جمعه 18 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم بوڑھے والد مجھے ملنے آئے تو میں نے انہیں کہا کہ آج سے میرا اور آپ کا تعلق ختم ہے۔والد نے سبب پوچھا۔میں نے کہا کہ میں نے تو اسلام قبول کر کے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ہے۔والد کہنے لگے کہ اچھا پھر میرا بھی وہی دین ہے جو تمہارا ہے۔(ان کو اپنے بیٹے کی نیکی اور لیاقت پر یقین تھا )۔پھر میں نے انہیں کہا کہ غسل کر کے اور صاف کپڑے پہن کر آئیں میں آپ کو اسلام کی تعلیم کے بارے میں کچھ بتا تا ہوں۔انہوں نے ایسا ہی کیا۔پھر کہتے ہیں میں نے انہیں اسلام کی تعلیم سے آگاہ کیا۔پھر کہتے ہیں کہ میری بیوی میرے پاس آئی۔میں نے اس سے کہا کہ تم مجھ سے جدا ر ہو، تم سے کوئی تعلق نہیں رہا۔اس نے وجہ پوچھی۔میں نے اسے بتایا کہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں۔چنانچہ اس نے بھی سنا اور اسلام قبول کر لیا۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے قبیلے دوس کو اسلام کی طرف دعوت دی مگر انہوں نے میری دعوت پر توجہ نہ کی تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکہ حاضر ہوا اور عرض کی کہ اے اللہ کے نبی! دوس قبیلے کے لوگ اسلام قبول نہیں کرتے۔آپ ان کے خلاف بد دعا کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی اے اللہ ! دوس قبیلے کو ہدایت فرما، جیسا کہ پہلے روایت میں آیا ہے اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طفیل کو یہ توجہ بھی دلائی کہ آپ واپس جا کر نرمی اور محبت سے پیغام حق پہنچائیں۔چنانچہ وہ گئے اور آرام سے تبلیغ شروع کر دی۔لیکن آگے آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کس طرح قبول ہوئی ، یہ قبیلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے طفیل جنگ احزاب کے بعد اسلام لایا۔اس کے بعد پھر طفیل بن عمرو مدینہ ہجرت کر آئے اور ان کے ساتھ 70 خاندان اور بھی تھے۔حضرت ابو ہریرہ بھی اس قبیلے کے تھے جو ان 70 خاندانوں کے ساتھ مدینہ میں ہجرت کر آئے تھے۔(السيرة النبوية لابن هشام قصة اسلام طفيل بن عمرو الدوسی، صفحه 278,277 | تو دعا کی قبولیت کا جب وقت آیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے دیکھیں کس طرح پورا فرمایا اور آہستہ کی تبلیغ سے ان کے دل نرم ہونے شروع ہوئے اور ایک وقت میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔اور اس دعا کے طفیل ایسے ہدایت یافتہ ابو ہریرہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے جو آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات ہم تک پہنچا کر ہمارے لئے بھی ہدایت کا باعث بن رہے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے طفیل اپنی والدہ کے قبول اسلام کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی مشرک والدہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا تھا، ایک دن میں نے انہیں تبلیغ کی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ناپسندیدہ باتیں کہیں۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتا ہوا حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت