خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 392
392 خطبه جمعه 11/اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے طفیل ان راستوں کو دوبارہ صاف کر کے ، ان راہوں پر ہمیں ڈالا جس سے ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کا صحیح فہم و ادراک حاصل کرنے والے بنیں اور اس طرف ہمیں توجہ پیدا ہو۔اس نے ہمیں بتایا کہ اسلام کا خداوہ خدا ہے جو سنتا بھی ہے اور بولتا بھی ہے۔دعا مانگو تو جواب بھی دیتا ہے۔آپ نے دنیا کو یہ چیلنج دیا کہ آؤ اس زندہ خدا کی پہچان مجھ سے حاصل کرو کیونکہ اس زمانہ میں اس کی پہچان کروانے والا اور اس کو دکھانے والا میں ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔ہمارا زندہ حی و قیوم خدا ہم سے انسان کی طرح باتیں کرتا ہے ہم ایک بات پوچھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں تو قدرت کے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ جواب دیتا ہے، دعا ئیں قبول کرتا ہے اور قبول کرنے کی اطلاع دیتا ہے۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 448) پس اس زمانے میں ہمیں زمانے کے امام کے ساتھ جڑ کر دعاؤں کی قبولیت کا بھی فہم و ادراک حاصل ہوا۔اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھنے کا بھی فہم حاصل ہوا۔اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے کا بھی ادراک حاصل ہوا کیونکہ زمانے کے امام کے ساتھ چمٹنے سے اللہ تعالیٰ ان ماننے والوں کو بھی ہر ایک کے اپنے تعلق کے معیار کے مطابق جو اس کا خدا تعالیٰ سے ہے، اپنی صفات کے جلوے دکھاتا ہے۔پس قرآن کریم کا یہ دعوئی صرف دعوی نہیں کہ اسلام کا خدا زندہ خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اسے پکارو، کامل تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے بلکہ عملاً اس کے نمونے بھی دکھاتا ہے۔پس اس اعلان سے اگر فائدہ اٹھانا ہے تو اس شرط پر عمل کرنا ہوگا کہ صرف اور صرف وہی معبود ہو اور اس کو حاصل کرنے کے لئے باقی سب کچھ چھوڑ نا ہوگا۔اور جب دنیا کے تمام ذرائع خدا کے مقابلے پر پیچ سمجھ کر چھوڑیں گے اور خالصہ اسی کے ہو کر اس کو پکاریں گے پھر وہ ان پکارنے والوں کی پکار سنے گا، نوازے گا اور قبول کرے گا۔ہمیشہ ہمارے ذہن میں دعا کرتے ہوئے یہ بات ہونی چاہئے کہ وہ ایک ہی ہمارا رب ہے۔جب اس نے بغیر مانگے ہمارے لئے اتنے انتظامات کئے ہوئے ہیں تو جب ہم خالص ہو کر اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کی عبادت کریں گے ، اس کے احکامات پر عمل کریں گے تو کس قدر وہ پیارا خدا جو اپنے بندوں سے بے انتہا پیار کرتا ہے، ہماری طرف توجہ کرتے ہوئے اپنے انعاموں اور فضلوں سے ہمیں نوازے گا۔اللہ تعالیٰ نے تو خود کہہ دیا ہے کہ میں دعائیں سنتا ہوں، مجھے پکاروتا کہ میں تمہاری سنوں تو پھر کس قدر بد قسمتی ہے کہ ہم ضرورت کے وقت دوسری چیزوں پر۔زیادہ انحصار کریں، دوسروں پر زیادہ انحصار کریں اور اپنے پیارے رب کو پکارنے کی طرف کم توجہ ہو۔دوسری آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا کو قبول کرتا ہے، جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔