خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 391 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 391

خطبات مسرور جلد چهارم 391 (32) خطبه جمعه 11/اگست 2006 اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب کا ایمان افروز تذکرہ زمانے کے امام کے ساتھ چمٹنے سے اللہ تعالیٰ ان ماننے والوں کو بھی ہر ایک کے اپنے تعلق کے معیار کے مطابق جو اس کا خدا تعالیٰ سے ہے، اپنی صفات کے جلوے دکھاتا ہے فرمودہ مورخہ 11 اگست 2006ء (11 رظہور 1385 ھش ) مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیات قرآنی کی تلاوت فرمائی: هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ ) (المؤمن : 66) أَمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ءَ إِلَهُ مَّعَ اللَّهِ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ﴾ (النمل :63) اللہ تعالیٰ کی ایک صفت مجیب ہے جس کے معنے ہیں دعا کو سننے والا یا ایسی ہستی جس سے جب سوال کیا جائے اور دعا مانگی جائے تو عطا کرتا ہے، نوازتا ہے ، قبول کرتا ہے۔پس یہ اسلام کا خدا ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور زندگی بخش ہے، جو مضطر کی دعاؤں کو سن کر اپنے وجود کا ثبوت دیتا ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے ہیں جس نے ہمیں اس خدا کی پہچان کروائی۔جو ہمیں مایوسیوں کی گہری کھائیوں سے نکال کر امیدوں کی روشنی عطا فرماتا ہے اور پھر صفت مجیب کا مزید فہم وادراک عطا کرتے ہوئے اپنے انعامات اور فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے وہ راستے دکھاتا ہے جو اس کے قرب کو حاصل کرنے والے اور اس کی بلندیوں پر لے جانے والے ہیں۔پھر ہماری یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق کی جماعت میں شامل ہیں جس نے آپ