خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 386
386 خطبه جمعه 04/اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم باوجود سمجھانے کے اپنے اختیارات سے تجاوز کر جاتے ہیں، تو انتظامیہ کو چاہئے کہ ایسے کارکن یا کارکنات جو ہیں ان کی ڈیوٹی ایسی جگہوں پر نہ لگائیں جو پبلک ڈیلنگ (Public dealing) کی جگہ ہو۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا عمومی طور پر ڈیوٹیوں کے معیار لڑکیوں کے ، لڑکوں کے، عورتوں مردوں کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھے رہے اور یقیناً وہ سب شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے، ان کے اخلاص و وفا کو بڑھائے ، ان میں یہ روح مزید بڑھاتا چلا جائے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی یہ ڈیوٹیاں ہمیشہ سر انجام دینی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیگر احکامات پر بھی عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش میں رہنا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔جو خطوط اور ٹیکسیں مجھے آئی ہیں، تمام دنیا نے ان سب کام کرنے والوں کو بڑی دعائیں دی ہیں۔اس نئی جگہ پر جو پہلے جلسے کا انعقاد ہوا ہے، بہت سی سہولیات میسر نہیں تھیں۔فوری طور پر تھوڑے وقت میں کام شروع کیا گیا اور شروع میں کام کرنے والی ٹیموں نے بڑی محنت سے اس جگہ کو اس قابل بنایا جس میں پانی کی سپلائی اور سیوریج وغیرہ کے پائپ ڈالنے کا کام تھا اور ایک کافی بڑی جگہ پر وسیع رقبے پر اب تقریباً مستقل یہ سہولت مہیا ہوگئی ہے جو آئندہ بھی انشاء اللہ کام آتی رہے گی۔ان سب کام کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جزا دے جنہوں نے یہ کام کیا۔یہ سب کارکنان جیسا کہ میں نے کہا سب دنیا کے احمدیوں کی دعائیں لے رہے ہیں۔پھر تمام دنیا کے احمدیوں کو جلسہ میں براہ راست شامل کرنے میں جو کر دار ایم ٹی اے کے کارکنان ادا کرتے ہیں وہ سب پر ظاہر ہے۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے اپنے والنٹیئر بھی اس قابل ہو گئے ہیں کہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تمام نظارے دنیا تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور سوائے اس کے جو براہ راست شامل ہونے کی برکت ہے اور ایسے جذبات ابھرتے ہیں جو ٹیلیویژن پر دیکھ کر شاید نہ ابھرتے ہوں، اس کے علاوہ جہاں تک انسانی کوششوں کے اندر رہتے ہوئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جلسے کے ماحول کو دکھانے اور اس میں جذب کرنے کا سوال ہے، میرے خیال میں شاید 19 ،20 کی کوئی کمی رہتی ہو تو رہتی ہو ورنہ دنیا کا ہر احمدی گھر جلسہ گاہ کی تصویر بنا ہوتا ہے۔بعض لوگ تو اپنے خاندان کو اکٹھا کر لیتے ہیں اور جلسے کا سماں ان کے گھروں میں بندھا ہوتا ہے۔اور بعض لوگ ان دنوں میں یہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ کھانا بھی وہی پکائیں جو ہمارے جلسہ کے دنوں میں لنگر خانہ میں پک رہا ہوتا ہے۔بہر حال ان ایم ٹی اے کے کارکنوں کے تمام دنیا کے احمدی شکر گزار ہیں۔سامنے سکرین پر آنے والے کارکنوں کے علاوہ بے شمار کارکنات، بچیاں، عورتیں اور دوسرے رضا کار ہیں جو بڑے اخلاص و وفا سے یہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔آپ سب دیکھنے والے ان کے لئے دعا تو کر رہے ہیں اور کرتے ہوں گے، ان کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص و وفا اور طاقتوں اور صلاحیتوں کو ہمیشہ