خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 380

خطبات مسرور جلد چہارم 380 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 پارکنگ کے منتظمین سے مکمل تعاون کریں اور مکمل طور پر جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں قانون اور قواعد کی پابندی کریں۔پھر صفائی کا خیال رکھیں ، ٹائیلٹس کی صفائی ہے، دوسری صفائی ہے۔یہ صفائی بھی ایمان کا حصہ ہے۔یہاں اس جلسہ گاہ میں تو عارضی انتظام ہے اس لئے خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کیونکہ یہ صفائی بھی اور جتنی ہم ہر بات میں توجہ دیں گے ہمارے لئے آئندہ آسانیاں پیدا کرے گی اور جتنی گندگی پھیلائیں گے اتنی مشکلات پیدا ہوں گی۔پھر خواتین گھومنے پھرنے کی بھی زیادہ شوقین ہوتی ہیں اس لئے وہ زیادہ احتیاط کریں۔نہا۔علاقے میں، نہ باہر پھریں۔اگر اس علاقے کو دیکھنے کی خواہش ہے، نیا علاقہ ہے، نئی جگہ ہے، بڑا وسیع رقبہ ہے، سیر کرنے اور پھرنے کو دل چاہتا ہے تو جلسہ کی کارروائی کے بعد جو وقت ہے اس میں بیشک پھریں، جلسے کے دوران نہیں۔لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس دوران بھی جب باہر نکلیں تو پردے کا ضرور خیال ما۔سوائے اس کے جو احمدی نہیں ہیں ، جو کسی احمدی کے ساتھ آئی خواتین ہیں ، ان کا تو پردہ نہیں ہوتا۔احمدی خواتین بہر حال پردے کا خیال رکھیں۔ان لوگوں کو بھی میں نے دیکھا ہے، غیروں کو بھی اگر اپنے ساتھ لانے والیاں اپنی روایت کے متعلق بتائیں تو وہ ضرور لحاظ رکھتی ہیں۔اکثر میں نے دیکھا ہے ہمارے فنکشنز میں سکارف ، دوپٹہ یا شال وغیرہ اوڑھ کر آتی ہیں۔تو یہ ان غیروں کی بھی بڑی خوبی ہے۔صرف ان کو تھوڑا سا بتانے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے کہا ہے احمدی خواتین بہر حال جب با ہر نکلتی ہیں تو پردے میں ہونی چاہئیں اور اگر کسی وجہ سے پردہ نہیں کر سکتیں تو پھر ایسی خواتین میک اپ وغیرہ بھی نہ کریں۔سر بہر حال ڈھانپا ہونا چاہئے کیونکہ یہ خالص دینی ماحول ہے، اس میں حتی الوسع یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ان تمام باتوں پر عمل کریں جس کا ہم سے دین تقاضا کرتا ہے۔پھر میں دوبارہ کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ مہمانوں کی عزت کریں ، اکرام کریں، خدمت کریں ، اس کو اپنا شعار بنائیں، محبت اور خلوص سے ہر قربانی کرتے ہوئے خدمت کریں۔مہمان بھی جیسا کہ میں نے کہا ہے نظم وضبط کا خیال رکھیں اور منتظمین جلسہ سے پورا پورا تعاون کریں کبھی کوئی شکایت کا موقعہ نہ دیں، کھانے کا ضیاع نہ کریں۔کھانے کے آداب میں بھی یہی ہے کہ جتنا کھانا ہو اتنا پلیٹ میں ڈالا جائے، جلسے کے دنوں میں کھانا بہت ضائع ہوتا ہے اور یہاں اس علاقے میں پھر آپ جب کھانا ضائع کریں گے تو ظاہر ہے باہر گند ڈالیں گے۔اکثر کو ڈسٹ بن میں پھینکنے کی عادت نہیں ہوتی اس سے پھر صفائی متاثر ہوتی ہے۔تو مہمان اس بات کا خیال رکھیں۔لیکن جو کارکنان کھانے کی ڈیوٹی پر متعین ہیں وہ