خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 381
خطبات مسرور جلد چہارم 381 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 بہر حال مہمانوں کو جب سمجھا ئیں کھانا لیتے ہوئے تو نرمی سے بات کریں ہختی نہ کریں۔کھانا کھانے والے کوشش یہ کریں کہ جس جگہ کھانے کھاتے ہیں وہیں اپنے برتن نہ پھینک آیا کریں ، ڈسپوزایبل ( Disposable ) برتن اور چیزیں استعمال ہوتی ہیں، ان کو ڈسٹ بن میں پھینک کر آیا کریں تاکہ ساتھ ساتھ صفائی ہوتی رہے۔کارکنان پر بھی زیادہ بوجھ نہ پڑے۔مہمان جو آئے ہوئے ہیں وہ خود اپنی صفائی کا خیال رکھیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ جماعتی جلسوں میں شرکت انہیں میلہ سمجھ کر نہیں کرنی چاہئے کہ میل ملاقات اور خرید وفروخت یا فیشن کا اظہار مقصود ہو۔اور عورتوں کے لئے خاص طور پر ، اکٹھی ہو ئیں ، باتیں کیں اور بس قصہ ختم ہو گیا۔تو اس بات کا خیال رکھیں اور انتظامیہ بھی خیال رکھے کہ اس جلسے کو کبھی میلے کی صورت نہ اختیار کرنے دیں۔یہ وہ بات ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جلسے کا ایک خاص مقصد قرار دیتے ہوئے خاص طور پر اس سے روکا ہے۔پھر یہ ہے کہ بعض دفعہ باہر سے آنے والے اپنے واقف کاروں سے شاپنگ وغیرہ کے لئے قرض لیتے ہیں، اس قرض لینے سے بھی پر ہیز کریں کیونکہ یہ قناعت ختم کرنے والی چیز ہے۔اور پھر ہاتھ کھلتا چلا جاتا ہے اور یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ یہ قرض پھر واپس بھی کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ جس مقصد کے لئے آپ آئے ہیں وہ خزانہ حاصل کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانٹنا چاہتے ہیں۔حفاظتی نقطہ نگاہ سے نگرانی کرنا اور اپنے ماحول پر گہری نظر رکھنا ہر ایک کا کام ہے بلکہ فرض ہے۔اجنبی آدمی اگر ہو، کوئی مشتبہ آدمی دیکھیں، کسی پر شک ہو تو نگرانی رکھیں۔چھیڑ چھاڑ نہ کریں لیکن نگرانی رکھیں اور انتظامیہ کو اگر اطلاع دینے کا وقت ہو تو اطلاع دیں۔نہیں تو کم از کم اس کے ساتھ رہیں۔کیونکہ اگر دوسرے کو یہ احساس ہو جائے کہ میری نگرانی ہو رہی ہے تو وہ شرارت نہیں کرتا۔اور اسی لئے چیکنگ کا انتظام ،ٹکٹوں اور کارڈز کا انتظام بڑا سخت کیا گیا ہے۔اس پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے بلکہ بڑی خوش دلی سے اس انتظام کے تحت ہر ایک کو اپنی چیکنگ کروانی چاہئے۔پھر یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے جو انتظامات ہیں وہاں مختلف جگہوں پر داخلے سے قبل، ایک تو جلسہ گاہ میں آتے ہوئے ہے ناں، جہاں بھی جانا ہے اگر چیکنگ ہوتی ہے تو جو بھی کارکنان ہیں ان سے آرام چیکنگ کروالیا کریں اور کارکنان بھی چیکنگ کرتے ہوئے نرمی سے، پیار سے توجہ دلائیں کہ اپنا کارڈ چیک کروا کر جائیں۔قیمتی چیزیں جو ساتھ لائے ہوئے ہیں یا کوئی نقدی وغیرہ ہے اس کی حفاظت کی