خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 375
خطبات مسرور جلد چہارم 375 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 انتظام ہونا چاہئے۔تو جماعتی نظام کے تحت اگر آپ آئے ہیں تو پھر اس کو بخوشی قبول کرنا چاہئے جو جماعت کا انتظام ہے۔ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ رہائشیں مقرر نہیں کی جاسکتیں۔کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے خبر دار کوئی امتیاز نہ ہو۔تو مہمانوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ انتظامیہ بھی بعض دفعہ مجبور ہوتی ہے۔اصل مقصد وہ روحانی غذا ہے جو کھانے کے لئے آپ یہاں آتے ہیں اس کی طرف توجہ دیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی نظام اب اتنا فعال ہے کہ مختلف ذریعوں سے کمیوں اور خامیوں کی نشاندہی ہو رہی ہوتی ہے۔انتظامیہ خود اس طرف نظر رکھتی ہے اس لئے اگر کبھی کوئی ایسا موقع آ جائے تو ناراض نہ ہوں اور جیسا کہ میں نے کہا خوش خلقی کے مظاہرے کریں۔ہر وقت ہر احمدی سے ان دنوں میں خوش خلقی کے مظاہرے ہونے چاہئیں۔یہ جو قُولُوا للنَّاسِ حُسْنًا﴾ (البقرة: 84 ) کا حکم ہے جس کا گزشتہ خطبہ میں میں نے کارکنوں کو توجہ دلاتے ہوئے ذکر کیا تھا، اس کے مخاطب آپ جلسے میں شامل ہونے والے بھی ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ مخاطب ہیں کیونکہ اکثریت تعداد تو شاملین کی ہوتی ہے۔اگر ان شامل ہونے والوں کے اخلاق کے معیار کم ہو جائیں تو ماحول کا امن زیادہ خراب ہونے کا امکان ہے۔شامل ہونے والے جہاں اپنے غصے کی وجہ سے یا کسی ایسی بات کی وجہ سے جو چھنے والی اور کاٹ دار ہو، طنزیہ ہو ، کارکنوں کے لئے تکلیف کا باعث بن رہے ہوتے ہیں وہاں ان کارکنوں کی ڈیوٹی دینے کی صلاحیتوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔اور پھر انتظامیہ کے لئے بھی مشکلات کھڑی کرتے ہیں کیونکہ ہر ایک کا مزاج ایک جیسا نہیں ہوتا ، باوجود اس کے کہ انتظامیہ بھی کوشش کرتی ہے اور یہی ان کی ہر وقت کوشش ہوتی ہے، میں بھی یاددہانی کرواتا ہوں کہ کارکن ڈیوٹی دینے والے، یا دینے والیاں، عورتیں بچیاں کسی مہمان کی طرف سے کسی قسم کی بد اخلاقی پر اسی طرح کے رد عمل کا اظہار نہ کریں۔لیکن پھر بھی بعض دفعہ ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔تو جلسہ میں شامل ہونے والے مہمان کی ذراسی بے احتیاطی اور جذبات پر کنٹرول نہ ہونا پورے ماحول کو خراب کر دیتا ہے۔پھر ایسے شخص کے، جس نے ڈیوٹی دینے والے سے بدمزگی کی ہوتی ہے، حمایتی بھی پیدا ہوتے ہیں جو بعض دفعہ چھوٹی سی بات کو اور زیادہ بھڑ کا دیتے ہیں۔اس طرح ڈیوٹی دینے والے کے بھی حمایتی پیدا ہو جاتے ہیں اور ایک گروہ بندی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔پھر شامل ہونے والے بعض ایسے ہوتے ہیں اور اکا دُکا یہ واقعات ہو بھی جاتے ہیں کہ یہاں آپس میں پرانی رنجشوں کے حوالے سے ایک دوسرے پر طنز یہ فقرے چست کرنے سے لڑائی جھگڑے تک نوبت آجاتی ہے۔تو ایسے گھٹیا کام کرنے والے چاہے ایک دو گھر ہی ہوں ، پورے ماحول کو خراب کر دیتے ہیں۔اس لئے اس بات کا خیال رکھیں کہ جلسے کے ماحول میں کسی قسم کی ایسی بدمزگی پیدا نہ ہو جو ماحول پر برا اثر ڈالنے والی ہو۔اگر ایسے ہی جذبات بھڑ کے ہوئے ہیں اور