خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 367

خطبات مسرور جلد چهارم 367 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 پس یہ بھی ایک سبق ہے مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کے لئے کہ ایک تو مہمان سے سختی نہیں کرنی۔دوسرے اگر مہمان میں کوئی کمزوری ہے تو وہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر اپنی حالت بدلنے کی کوشش کرے گا اور اس طرح آپ کسی کی اصلاح کا باعث بھی بن جائیں گے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں۔اس لئے مناسب ہے کہ سب کو واجب الا کرام جان کر تواضع کرو۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 492 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ اصول ہمیشہ یاد رکھیں خاص طور پر شعبہ مہمان نوازی اور خوراک والے یہ بات پلے باندھ لیں کہ کسی مہمان کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ فلاں مہمان کو زیادہ پوچھا گیا اور فلاں کو کم یا فلاں کے لئے بیٹھنے کے لئے زیادہ بہتر جگہیں تھیں اور فلاں کے لئے کم۔ٹھیک ہے بعض جگہیں بنائی جاتی ہیں، بعضوں کا تقاضا ہے، مریضوں کے لئے ، بیماروں کے لئے یا ایسے مہمانوں کے لئے جو کسی خاص ملک کے نمائندے ہیں اور ان کو وہاں زبان کی وجہ سے بٹھانا پڑتا ہے یا پھر ایسے ہیں جو غیر ہیں وہ آتے ہیں لیکن عمومی طور پر جو مهمان نوازی کا اصول ہے، سب مہمانوں سے ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے۔اس دفعہ پاکستان سے اور دوسرے ملکوں سے بھی بہت سے مہمان آئے ہیں اور آ رہے ہیں ، جو پہلی دفعہ ملک سے باہر نکلے ہیں۔تعلیم بھی معمولی ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔کئی ایسے ہیں جو مجھے ملے ہیں اور بڑے جذباتی رنگ میں بتایا کہ ہم جلسے میں شامل ہونے کے لئے اور آپ کو ملنے کے لئے آئے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔یہ نہ سمجھیں کہ غریب آدمی ہے تو اس کا خیال نہیں رکھنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ کسی کے پھٹے ہوئے کپڑے دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ اس کو مہمان نوازی کی ضرورت نہیں، مہمان مہمان ہے۔کچھ تو آنے والے لوگ اپنے عزیزوں کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں لیکن بعض جماعتی نظام کے تحت بھی ٹھہرے ہوئے ہیں اور جلسے کے تین دنوں میں تو ان سب نے جماعتی مہمان ہی ہونا ہے۔یہاں کی جو بعض چیزیں ہیں ان سے بعضوں کو نا واقفیت ہو گی ، ان کے لئے بالکل نئی ہوں گی تو ان کا خیال رکھیں اور بغیر ان کو کسی قسم کا احساس دلائے ان کی خدمت کریں۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس ان کے عزیز یا دوست مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں وہ شروع میں تو بڑے جوش سے گھر میں مہمان لے جاتے ہیں، دعوت بھی دیتے ہیں لیکن بعد میں بدمزگی پیدا ہو جاتی ہے۔اپنے بہت ہی قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کی خدمت تو کر رہے ہوتے ہیں لیکن جو واقف