خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 365
365 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم سے بات کیا کرو۔تو یہ بات جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے، اخلاق کو قائم کرنے کا ایک گر ہے۔یہ صرف خاص حالات کے لئے ہی نہیں ہے اور صرف خاص لوگوں سے ہی متعلق نہیں ہے بلکہ ہر وقت ہر ایک سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔جب ایسی حالت پیدا ہوگی تو جہاں معاشرے میں آپس کا تعلق بڑھے گا ، وہاں ایمان میں بھی ترقی ہو گی۔عمومی طور پر جب یہ حکم ہے تو ان دنوں میں خاص طور پر اس حکم کی بہت زیادہ پابندی کرنی چاہئے۔پس کارکنوں کو چاہئے کہ ہمیشہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے رہیں۔جہاں وہ ان اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے مہمان نوازی کا حق ادا کرتے ہوئے ثواب کما رہے ہوں گے اور پھر نتیجہ یہ بات ان کے ایمان میں ترقی کا باعث بن رہی ہوگی، وہاں اس وجہ سے کہ انہوں نے دوسرے کی غلط بات پر ویسا ہی رد عمل ظاہر نہیں کیا ، ایسے کارکنان دوسرے شخص کو بھی یہ احساس دلانے کا باعث بنیں گے کہ احمدی معاشرہ نرمی، پیار، محبت اور بھائی چارے کا معاشرہ ہے۔ہم یہاں اپنی تربیت کے لئے جمع ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں اور یہختی کی باتیں تو اس مقصد سے مکمل طور پر تضا د رکھتی ہیں۔اتنا تضاد ہے کہ جس طرح بعد المشرقین ہوتا ہے۔پس آپ کا ، کارکنان کا خاموش رہنا اور سختی کی بات پر بھی نرمی سے جواب دینا بلکہ اپنی طبیعت پر جبر کرتے ہوئے انتہائی خوش خلقی سے جواب دینا دوسرے کو اس کی غلطی کا احساس دلانے کا اور اصلاح کرنے کا ایک عملی جواب ہو گا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اعلیٰ اخلاق دکھاتے ہوئے خوش خلقی کا مظاہرہ کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میزان میں حسن خلق سے زیادہ وزن رکھنے والی کوئی چیز نہیں ہے مَا مِنْ شَيْءٍ يُوْضَعُ فِي الْمِيْزَانِ أَثْقَلَ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ (سنن ترمذى كتاب البر والصله بابماجاء في حسن الخلق حدیث نمبر (2002) کہ میزان میں حسن خلق سے زیادہ وزن رکھنے والی کوئی چیز نہیں ہے اور اچھے اخلاق کا مالک ان کی وجہ سے صوم وصلوٰۃ کے پابند کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔اچھے اخلاق ایک نمازی کا درجہ دے جاتے ہیں، نیکیوں کی توفیق ملتی ہے، پھر اللہ کا خیال آتا ہے اور عملاً پھر ہر نیکی دوسری نیکی کی طرف لے کر جاتی ہے۔انسان کی نیکیوں کا جو پلڑا ہے اس میں سب سے زیادہ وزن والی چیز حسن خلق ہے۔ایک ترازو میں اگر نیکیاں رکھی جائیں تو جب نیکیوں کا وزن بڑھتا جائے گا تو سب سے زیادہ وزن ڈالنے والی جو چیز ہوگی وہ اچھے اخلاق ہیں اور نرمی سے مسکراتے ہوئے بات کرنا ہے۔پس ان دنوں میں باوجود ڈیوٹیوں کے بوجھ کے، باوجود نا قابل برداشت چیزوں کا سامنے کرنے کے، ہمیشہ مسکراتے رہنے کی کوشش کریں اور یہ جو خوش خلقی کی ظاہری حالت کارکنان اپنے پر طاری کریں گے ، چاہے دل نہ بھی چاہ رہا ہو تب بھی کرنی ہے، تو اس سے آپ کے بعض جو فوری رد عمل ہیں وہ بھی کنٹرول میں رہیں گے۔