خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 364
364 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم ہم تو اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں جس نے مہمان نوازی کے ایسے اعلیٰ معیار قائم فرمائے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ کیا اعلیٰ معیار تھے۔آپ کی برداشت اور بلند حوصلگی کا مقابلہ ہی نہیں ہے لیکن وہ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔جب آپ اپنی امت کو نصیحت کرتے تھے یا اپنے ماننے والوں یا صحابہ کونصیحت کرتے تھے یا جو نصیحت ہمیں آپ نے کی ہے، اس کے اعلیٰ نمونے بھی آپ نے دکھائے ہیں۔دیکھیں جب ایک مہمان آتا ہے، غیر مسلم ہے، ہوتا ہے اور زیادہ کھانے کی وجہ سے یا کسی وجہ سے رات کو اپنے پر کنٹرول نہیں رہا یا شرار تا بستر گندہ کر کے چلا گیا تو آپ نے برانہیں منایا بلکہ صبح جب جا کے دیکھا تو خود ہی اس کو دھونے لگے۔تو جیسا کہ میں نے کہا وہ تو ایک غیر تھا اور پتہ نہیں کس نیت سے یہ خراب کر کے گیا تھا۔لیکن آپ نے اس کی غیر حاضری میں بھی اسے یہ نہیں کہا کہ یہ کیا کر گیا ہے۔بلکہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ باوجود ہمارے کہنے کے کہ ہمیں موقع دیں خود ہی بستر دھوتے رہے کہ نہیں وہ میرا مہمان تھا۔آپ کی یہ بلند حوصلگی اور یہ نمونہ آپ نے اس لئے ہمارے سامنے قائم فرمایا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔پس آپ کے مہمان جن کی مہمان نوازی آپ کے سپرد کی گئی ہے، جن کی مہمان نوازی کرنے کا انشاء اللہ تعالیٰ اب موقع مل رہا ہے، یہ تو وہ مہمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کی خاطر یہاں جمع ہورہے ہیں، اس لئے جمع ہورہے ہیں کہ اللہ کے دین کی باتیں سنیں، اس لئے جمع ہورہے ہیں کہ خدا کے مسیح نے انہیں بلایا ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے۔اور اس لئے بلایا ہے کہ سال میں ایک دفعہ جمع ہو اور اپنی تربیت کرو، اپنی روحانیت کو بہتر بناؤ۔ان سے کسی ایسے انتہائی فعل کی تو توقع نہیں کی جاسکتی جیسا کہ اس کا فرنے اس قسم کا گھٹیا کام کیا تھا لیکن اگر کسی مہمان کی طبیعت کی تیزی کی وجہ سے اس کے منہ سے کوئی سخت قسم کے الفاظ نکل جاتے ہیں یا وہ سخت الفاظ استعمال کر لیتا ہے تو کارکنان کو ہمیشہ درگزر سے کام لینا چاہئے اور درگزر سے کام لیتے ہوئے ان کی باتوں کا برانہیں منانا چاہئے کیونکہ اس سے پھر مزید بدمزگی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہر احمدی سے ہونا چاہئے ، چاہے وہ مہمان ہو یا میز بان ہو، مرد ہو یا عورت ہولیکن ہر دوسرے کا فعل اس کے ساتھ ہے۔آپ جو کارکنان ہیں، میں آپ سے اس وقت مخاطب ہوں۔مہمانوں کو تو نصیحت میں بعد میں کروں گا کہ آپ لوگوں کو ان دنوں میں بہت زیادہ وسیع حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اچھے اخلاق کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرنی چاہئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے قُولُو الِلنَّاسِ حُسْنًا ( البقرہ: 84 ) یعنی لوگوں سے نرمی