خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 363

خطبات مسرور جلد چهارم 363 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 جلسہ میں موجودگی میں وقت گزارنے کا زیادہ سے زیادہ ہمیں موقع ملے گا تو ظاہر ہے پھر مجھے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان پیارے مہمانوں کی مہمان نوازی کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے اور ان کی تکلیف پر تکلیف پہنچنی چاہئے۔اس لئے اپنی فکر کو دور کرنے کے لئے اس خطبے میں جو جلسے سے ایک ہفتے پہلے کا خطبہ ہے، جیسا کہ میں نے کہا کارکنان کو ان کی ڈیوٹیوں کے بارے میں توجہ دلائی جاتی ہے تا کہ وہ مہمانوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں۔یہ توجہ اس لئے بھی دلائی جاتی ہے کہ عموماً تو ہر کارکن بڑے جوش سے اس انتظار میں ہے کہ ہم ڈیوٹیاں دیں لیکن کارکنان کی یاد دہانی کے لئے کہ ان کو جو کام پہلے کرنے والے ہیں ان کی یاددہانی ہو جائے اور پھر بہت سارے نئے بھی شامل ہو رہے ہوتے ہیں، ان کو بھی پتہ لگ جائے۔ان نئے شامل ہونے والوں میں بچے بھی ہوتے ہیں جو بچپن کی عمر سے اطفال کی ڈیوٹیوں میں شامل ہورہے ہوتے ہیں یا اطفال کی عمر سے خدام کی ڈیوٹیوں میں جو زیادہ ذمہ داری کا کام ہے اس میں شامل ہورہے ہوتے ہیں، ان کو توجہ دلائی جائے اور نوجوانوں کو بھی اس طرف توجہ ہو جائے ، ان کو بھی مہمان نوازی کی اہمیت کا پتہ لگ جائے۔تو جیسا کہ میں نے کہا ہے عمومی طور پر تو سب جوان، بچے، بچیاں ، لڑکے، مرد اپنے فرائض ادا کرنے کے لئے بڑے پر جوش ہیں اور انتظار میں ہیں کہ کب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان مہمانوں کی خدمت کا موقع ملے، لیکن یاد دہانی معیار کو مزید بہتر کرنے اور خامیوں پر نظر رکھنے میں مدد دیتی ہے۔سواس لئے مختصرا ایک بات کی طرف میں توجہ دلاؤں گا۔باتیں تو بہت ساری ہیں لیکن اس بات میں باقی باتیں آ جائیں گی۔اس ضمن میں جو بڑی ضروری بات ہے، ہمیشہ میں کہا کرتا ہوں کہ مجھے بعض مہمانوں کا علم ہے کہ جب وہ آتے ہیں تو یا تو بڑی توقعات رکھتے ہیں یا طبعا اتنے حساس ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے کسی بھی کارکن یا میز بان کی طرف سے ذراسی بھی اونچ نیچ نہیں ہونی چاہئے۔بعض مہمان غلطی پر ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن ایک کارکن کا، ایک میزبان کا کام یہ ہے کہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہر حال میں مہمان کا خیال رکھے اور اسے کسی بھی قسم کی ناراضگی کا موقع نہ دے ، گو کہ بعض صورتوں میں یہ بڑا مشکل کام ہے لیکن جب آپ نے جلسے کے مہمانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تو پھر ظاہر ہے کہ قربانی بھی کرنی پڑے گی اور جب اپنے جذبات کی قربانی کرتے ہوئے اس مشکل کام کو سر انجام دیں گے تو تبھی اللہ تعالیٰ کے حضور زیادہ ثواب کے حقدار ٹھہریں گے۔