خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 357 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 357

خطبات مسرور جلد چهارم 357 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 ایک دن حاجی غلام احمد صاحب ساکن بنگہ کو ایک غیر احمدی شخص جھجو خان نے کہا کہ اگر آج بارش ہو جائے تو میں احمدی ہو جاؤں گا۔شدت کی گرمی پڑ رہی تھی حاجی صاحب نے احمدی احباب کی محبت میں نہایت سوز وگداز سے دعا کی ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ بادل آسمان پر چھا گئے اور زور کی بارش برسنے لگی۔چھجو خان صاحب اپنی بات کے پکے تھے۔انہوں نے فوراً احمدیت قبول کر لی۔اصحاب احمد جلد وہم صفحہ 106) مولانا نذیر احمد صاحب مبشر لکھتے ہیں کہ 1940ء میں میں گھانا میں تھا۔اس وقت گولڈ کوسٹ کہلاتا تھا، کہ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میرے چیمبر پاٹ میں ایک سیاہ سانپ داخل ہوا ہے جس کا منہ پاٹ کے اندر کی طرف ہے اور دم پاٹ کے کنارے پر ہے۔مجھے اس وقت بیدار ہوتے ہی یہ تفہیم ہوئی کہ دشمن میرے در پئے آزار ہے۔چنانچہ اسی روز فجر کی نماز کے بعد جب میں مبلغین کلاس کے طلباء کو قرآن کریم با ترجمہ پڑھا رہا تھا میں نے طلباء کو بتایا کہ گزشتہ شب میں نے ایسا خواب دیکھا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی دشمن مجھ کو یا جماعت کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔کہتے ہیں کہ ابھی گفتگو میں نے ختم نہیں کی تھی ، کہ ان طلباء میں سے ایک طالب علم نے مجھے مخاطب کر کے کہا مولوی صاحب آپ کا خواب پورا ہو گیا۔وہ دیکھیں ہمارے مشن ہاؤس کے گرد دو درجن پولیس کے آدمی گھیرا ڈالے کھڑے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں میں وہاں گیا تو پولیس والے کھڑے تھے۔ایک سادہ لباس والا میری طرف آیا اس کے ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے۔مولوی صاحب کہتے ہیں میں نے اس کو ہنس کے کہا میرے خلاف کوئی وارنٹ گرفتاری لائے ہو؟ اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ہاں یہ آپ کی تلاشی کے وارنٹ ہیں۔پھر سپاہی بھی آگئے۔اس وارنٹ میں لکھا ہے کہ آپ کے پاس ٹرانسمیٹر ہے جس کے ذریعے آپ جرمنی کو خبریں پہنچا رہے ہیں اور آپ کے پاس اسلحہ بھی ہے کہتے ہیں میں نے یہ سن کر ہنستے ہوئے کہا کہ بے شک میری اور مشن ہاؤس کی تلاشی لے لو اور جہاں اسلحہ اور ٹرانسمیٹر رکھا ہوا ہے اپنے قبضہ میں لے لو۔چنانچہ انہوں نے تلاشی لینی شروع کی۔انہیں نظر کیا آنا تھا۔بہر حال ناکام ہوئے۔پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے فنانشل سیکرٹری کے دفتر کی بھی تلاشی لینی ہے مگر وہاں بھی ناکامی ہوئی۔پھر انہوں نے سکول کے ہوٹل کی تلاشی لینی چاہی تو میں نے انہیں کہا کہ وارنٹ تو صرف میرے گھر کے ہیں لیکن بہر حال تم لوگ تلاشی لے لوتا کہ تمہاری تسلی ہو جائے۔جب ساری تلاشی لی اور ناکامی ہوئی اور ان کو کچھ نہیں ملا تو شرمندہ ہو کر چلے گئے۔اللہ میاں کا فوری انتقام اس طرح ظاہر ہوا۔کہتے ہیں کہ یہاں سے فارغ ہونے پر پولیس کو رپورٹ ملی کہ قریب ہی ایک گاؤں میں شراب کشید کی جارہی ہے۔( پولیس کو موقع ملتا ہے نا کہ جہاں جائیں وہاں کچھ نہ کچھ آمدنی ہو جائے۔ان ملکوں میں پولیس اتنی صاف تو ہوتی نہیں)۔تو وہ وہاں پہنچ گئے۔وہاں جا کے مجرم کو پکڑ لیا اور انسپکٹر نے ابھی بوتل اپنے ہاتھ میں پکڑی ہی تھی کہ ان مجرموں میں سے کسی نے شراب کی بوتل ان کے