خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 356

خطبات مسرور جلد چہارم 356 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 اسلام کے خدا پر قربان جائیے کہ اس کے بعد چند منٹ بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ بارش تھم گئی اور وہ پادری اور سب حاضرین اللہ کے عظیم نشان پر بڑے حیران رہ گئے ، انگشت بدنداں رہ گئے۔روح پرور یا دیں۔از مولا محمد صدیق امرتسری صاحب صفحہ 63-64 مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری کہتے ہیں کہ ایک بار سیرالیون میں جب تھا تو وہاں علماء نے چیفوں کو خوش کرنے کے لئے یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ سگریٹ ، تمباکو، پائپ اور نسوار وغیرہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔روزہ رکھ کے یہ بے شک استعمال کر لو کچھ نہیں ہوتا کیونکہ یہ چیزیں پیٹ میں نہیں جاتیں۔تو جب ہم ان کو صحیح باتیں بتاتے تھے تو وہ بڑے ناراض ہوتے تھے اور چیف اس بات پر ہمارے تھے بھی واپس کر دیتے تھے۔تو اسی طرح کے ایک چیف نے ایک جگہ ان کو جہاں جماعت تھی وہاں گاؤں والے باجماعت نماز ادا کیا کرتے تھے۔تو چیف نے ان کو کہا کہ تم نے ان لوگوں کو میری نافرمانی پر اکسایا ہے اور خود بھی ہماری عائد کردہ پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہو۔اس لئے تمہیں گاؤں میں نماز پڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔اور اگر تم نے گاؤں میں نماز پڑھائی تو میں تم سب کو یہاں سے نکال دوں گا۔اور پھر اس نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یہ ہندوستانی ہمارے گاؤں میں ہلاکت اور تباہی چاہتا ہے تم لوگ گاؤں میں انہیں باجماعت نماز نہ پڑھنے دو۔ایسا نہ ہو کہ ہم پر عذاب آ جائے ہمارے علماء کے نزدیک یہ بات گاؤں پر آسمانی و با اور عذاب کا موجب بن سکتی ہے۔تو خیر وہ کہتے ہیں کہ بات سن کے بڑا فکر مند تھا کہ رمضان بھی شروع ہونے والا ہے اور باجماعت نمازیں بھی لوگوں نے پڑھنی ہیں وہ کہاں پڑھیں گے تو اسی فکر میں وہ کہتے ہیں کہ میں ایک معلم کو لے کر باہر چلا گیا اور دعا کی کہ الہی تو ہی ہمارا چارہ ساز اور حاجت روا ہے کسی تدبیر سے ہم اس مصیبت کو دور نہیں کر سکے۔ہم تو بے شک نالائق اور گناہ گار ہیں، کمزور ہیں مگر تیرا اسلام ، تیرا قرآن، تیرا رسول، تیرا مہدی اور مسیح بچے ہیں۔تو سچے وعدوں والا ہے۔تیری یہ جماعت کچی ہے۔تو اپنے حقیر بندوں کی معجزانہ طور پر مددفرما کہ یہ اس وقت بے یارو مددگار ہیں اور ان کے ہموطنوں نے ہی ان کا جینا محض سچائی قبول کرنے کی وجہ سے مشکل کر رکھا ہے۔پھر کہتے ہیں میں نے حضرت مسیح موعود کی آڑے وقت کی دعا کے الفاظ بڑی رقت سے دوہرائے۔کہتے ہیں تھوڑی دیر بعد دعا کے دوران ہی بارش شروع ہو گئی۔اس سے انہوں نے یہ شگون لیا اور یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا قبول کر لی ہے۔تو کہتے ہیں اپنے گاؤں میں واپس آئے۔پھر چیف سے کہا۔چیف نہ مانا۔ابھی ہم اس پریشانی میں وہاں بیٹھے ہی تھے کہ بڑے چیف کا آدمی وہاں اپنے یونیفارم میں آیا اور اس نے اس چیف کو ایک خط دیا کہ چیف کا یہ حکم ہے کہ کیونکہ سیرالیون میں مذہبی آزادی ہے اس لئے کسی فرقے کو بھی کسی طرح بھی عبادت کرنے سے نہیں روکنا۔تو فور اوہاں جماعت کے جو لوگ تھے ان کے لئے نشان ظاہر ہوا اور سب سجدہ شکر بجالانے لگے۔روح پرور یادیں از مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری صفحہ 329-331