خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 355
355 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم نشیب میں جارہا تھا۔اس کا نقشہ انہوں نے کھینچا ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو محفوظ رکھا۔کہتے ہیں کہ کیرنگ سے ہم بھدرک پہنچے۔یہ خان صاحب مولوی نور محمد کا آبائی وطن تھا۔خان صاحب پولیس کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔بھدرک میں علاوہ دیگر شرفاء اور معززین کے ایک ہندو مہنت سے بھی ملاقات ہوئی جو وہاں کے رئیس تھے انہوں نے ہماری ضیافت کا انتظام بھی کیا اور اپنی وسیع سرائے میں ہمیں جلسہ کرنے اور لیکچر دینے کی اجازت دی۔اس سرائے کے ایک حصے میں ہندوؤں کے بتخانوں کی یادگاریں اور بتوں کے مجسمے جا بجا نصب تھے۔جب ہماری تقریر شروع ہوئی تو اوپر سے ابر سیاہ برسنا شروع ہو گیا یعنی بارش شروع ہو گئی۔کالے بادل آگئے۔تمام چٹائیاں اور فرش بارش سے بھیگنے لگے۔اس وقت احمدیوں کے دلوں میں لیکچروں میں رکاوٹ کی وجہ سے سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی۔کہتے ہیں میرے دل میں بھی سخت اضطراب پیدا ہوا۔اور میرے قلب میں دعا کے لئے جوش بھر گیا۔میں نے دعا کی کہ اے مولی ! ہم اس معبد اصنام میں یعنی بتوں کے اس گھر میں تیری توحید اور احمدیت کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں اور تیرے پاک خلیفہ حضرت مصلح موعودؓ کے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔لیکن آسمانی نظام اور ابر وسحاب کے منتظم ملائکہ بارش برسا کر ہمارے اس مقصد میں روک بننے لگے ہیں۔میں یہ دعا کر ہی رہا تھا کہ قطرات بارش جو ابھی گرنے شروع ہی ہوئے تھے یکدم بند ہو گئے اور جو لوگ بارش کے خیال سے جلسہ گاہ سے اٹھ کر جانے لگے تھے میں نے ان کو آواز دے کر روک لیا۔کہا کہ اب بارش نہیں برسے گی اور اطمینان سے بیٹھ کر تقریر میں سنو۔اور تھوڑی دیر بعد کہتے ہیں مطلع بالکل صاف ہو گیا۔(حیات قدسی حصہ سوم صفحہ 24-25) مولانا محمد صادق صاحب انڈونیشیا کا اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ پاڈانگ شہر میں چوہدری رحمت علی صاحب مرحوم ایک احمدی درزی مکرم محمد یوسف صاحب کی دکان پر بیٹھے تھے کہ ہالینڈ کے ایک عیسائی بشپ پادری اپنے ساتھیوں سمیت تبلیغ کرتے ہوئے وہاں آ نکلے اور مولانا صاحب سے ان کا اسلام اور عیسائیت پر تبادلہ خیالات شروع ہو گیا جسے سننے کے لئے لوگ بکثرت وہاں جمع ہو گئے۔اسی اثناء میں موسلا دھار بارش ہونے لگی۔اس علاقہ میں جب بارش شروع ہو تو کئی کئی گھنٹے رہتی ہے۔تو بحث کرنے کے بعد جب وہ پادری صاحب دلائل کا مقابلہ نہ کر سکے اور عاجز آگئے تو اپنی شکست اور نا کامی پر پردہ ڈالنے کے لئے حضرت مولانا صاحب کو انہوں نے کہا کہ اگر واقعی عیسائیت کے مقابلہ میں تمہارا مذہب اسلام سچا اور افضل ہے تو اس وقت ذرا اپنے اسلام کے خدا سے کہئے کہ وہ اپنی قدرت کا کرشمہ دکھائے اور اس موسلا دھار بارش کو یکدم بند کر دے۔چنانچہ اس کا یہ مطالبہ کرنا ہی تھا کہ مولانا صاحب نے بلا حیل و حجت اپنے زندہ خدا پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے بڑی پر اعتماد آواز میں بارش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔اے بارش ! تو اس وقت خدا کے حکم سے تھم جا اور اسلام کے زندہ اور بچے خدا کا ثبوت دے۔کہتے ہیں کہ