خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 353

353 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم کہا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے دین اسلام کی اشاعت کا یہ مرکز جلانے کی کوشش کی ہے خدا اس کے اپنے گھر کو آگ لگا کر راکھ کر دے۔چنانچہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے چند روز بعدا چانک با“ میں ہمارے مخالفین کے سرغنہ ابو بکر کو یا کے گھر کو آگ لگ گئی اور باوجود بجھانے کی ہر کوشش کے اس کا وہ رہائشی مکان سارے کا سارا جل کر راکھ ہو گیا۔( روح پرور یادیں۔از مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب صفحہ 94,95) زمولانامحمد پھر مولانا غلام حسین صاحب کے متعلق ہے، کہتے ہیں کہ جب انگریز واپس آنے لگے تو دونوں طرف سے گولہ باری ہو رہی تھی ایک گولے کے پھٹنے سے محلے میں جہاں وہ رہتے تھے آگ لگ گئی اور آگ نے بڑھتے بڑھتے ان کے گھر کی جگہ کے قریب آنا شروع کر دیا ، بڑی تیزی سے پھیلتی جا رہی تھی۔احباب جماعت اس کو دیکھ کر بڑے پریشان ہو گئے۔مولوی صاحب کے مکان کے پاس لکڑیاں جل رہی تھیں خیال تھا کہ سامان کا نکالنا بھی مشکل ہے۔اُس وقت آدمیوں نے سامان نکالنا چاہا تو مولوی صاحب نے منع کر دیا اور کہا فکر نہ کر و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا الہام ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔آگ انجمن احمد یہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کمزور اور بے بس بندوں کی آواز کو سنا اور ان کی دعا کو قبول فرمایا اور مولوی صاحب کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ آگ فوراً پلٹ گئی اور بیچ سے چند مکان چھوڑ کر آگے پیچھے گھروں کو جلا دیا لیکن اتنا حصہ محفوظ رہا۔اور جو ساتھ کے مکان تھے وہ بھی محفوظ رہے۔( الفضل 6 فروری 46 صفحہ 4) حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چوہدری تھے خان صاحب جو گاؤں مذکور غازی کوٹ کے رئیس اور مخلص احمدی تھے انہوں نے وہاں ایک تبلیغی جلسے کا انتظام کیا اور علاوہ مبلغین اور مقررین کے ارد گرد کے احمدی احباب کو بھی اس جلسے میں شمولیت کی دعوت دی۔جلسہ دو دن کے لئے مقرر کیا گیا۔جب غیر احمدیوں کو اس جلسے کا علم ہوا تو انہوں نے بھی اپنے علماء کو جونش گوئی اور دشنام دہی میں خاص شہرت رکھتے تھے ، گالیاں نکالنے میں بڑے مشہور تھے۔(ان کے پاس گالیوں کے سوا کچھ نہ تھا۔آج بھی یہی حال ہے۔) ان کو بھی دعوت دی اور ہماری جلسہ گاہ کے قریب ہی اپنا سائبان لگا کر اور سٹیج بنا کر حسب عادت سلسلہ حقہ اور اس کے پیشواؤں اور بزرگوں کے خلاف سب و شتم شروع کر دیا۔گالیاں دینی اور فضول بکواس شروع کر دی۔کہتے ہیں کہ ابھی چند منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک طرف سے سخت آندھی اٹھی اور اس طوفان باد نے انہیں کے جلسے کا رخ کیا اور ایسا اودھم مچایا کہ ان کا سائبان اڑ کر کہیں جا گرا ، قناتیں کسی اور طرف جاپڑیں اور حاضرین جلسہ کے چہرے اور سرگرد سے اٹ گئے۔یہاں تک کہ ان کی شکل دکھائی نہ دیتی تھی۔