خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 352 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 352

352 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم حکومت کا ہوا تھا۔میرا یہ خواب اپریل 1945 ء کے آخر یا مئی کے ابتداء کا ہے۔اور اس وقت کئی ہندو سکھ دوستوں کو بھی یہ خواب سنادیا گیا تھا۔چنانچہ اسی سال 14 اگست کو نا گا سا کی اور ہیروشیما پر ایٹم بم برسائے گئے اور جاپانی حکومت کا تختہ الٹ کر رکھ دیا گیا۔انہی دنوں جاپانی حکومت کے کاغذات میں سے ایک خط نکلا جس میں 23-24 اگست 1945 ء کی رات 65 آدمیوں کے قتل کا فیصلہ درج تھا اور سر فہرست خاکسار کا نام تھا۔یعنی مولانا صادق صاحب کا تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح ان کو محفوظ رکھا۔کہتے ہیں کہ گویا اس فیصلے کے نافذ ہونے میں صرف دس دن باقی تھے کہ خدائے قادر و قیوم نے جو اپنے عاجز بے کس بندوں کی سنتا ہے جاپانی حکومت کو تباہ کر دیا اور قبل اس کے کہ وہ خدا کے اس عاجز بندے پر ہاتھ ڈالے اس کے ہاتھ بلکہ تمام قومی کوشل کر کے رکھ دیا۔کہتے ہیں کہ خوب یا درکھئے ، جو کچھ ہوا وہ میری ذاتی خوبی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ جو کچھ ہوا مسیح الزمان ، مهدی دوراں مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کے اظہار کے لئے بطور نشان آسمانی ظاہر ہوا کیونکہ اسی پیارے کی پیروی کی وجہ سے مجھے مجرم گردانا جار ہا تھا۔برہان ہدایت عبد الرحمان مبشر صاحب صفحہ 205 تا 208 ) وو 466 حضرت مولانا شیخ واحد صاحب لکھتے ہیں کہ 1968ء میں ہم نے نجی کے مشہور شہر یا میں احمد یہ مشن کی برانچ کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے ایک مناسب حال مکان بھی خرید لیا۔تو اس شہر میں ہماری شدید مخالفت شروع ہوگئی۔مخالفین کوشش کرنے لگے کہ جیسے بھی ہو تبلیغ اسلام کا یہ مشن "با" شہر میں کامیاب نہ ہونے پائے اور ہمارے قدم وہاں نہ جمیں۔اس وقت ہمارے مخالفین کا سرغنہ وہاں ایک صاحب اقتدار شخص ابو بکر کو یا نامی تھا۔چنانچہ اس نے اور دیگر مخالفین نے اعلان کرنا شروع کر دیا کہ احمد یوں کئے ”با مشن کی عمارت کو جلا دیں گے۔تاہم کہتے ہیں کہ ہم سے جس قدر ممکن ہو سکا ہم نے حفاظتی انتظامات کئے۔پولیس سٹیشن بھی ساتھ تھا ان کو بھی بتایا۔پولیس نے کہا کہ ہم نگرانی رکھیں گے۔پھر بھی ایک رات کسی طرح مخالفین کو مشن کو نقصان پہنچانے کا موقع مل گیا اور ان میں سے کسی نے ہمارے مشن ہاؤس کے ایک حصے میں تیل ڈال کر آگ لگا دی اور یہ یقین کر کے کہ اب آگ ہر طرف پھیل جائے گی کیونکہ لکڑی کا حصہ تھا لکڑی کو تو فوراً آگ لگ جاتی ہے اور ہمارے مشن ہاؤس کو خاک سیاہ کر دے گی آگ لگاتے ہی آگ لگانے والا وہاں سے چلا گیا، بھاگ گیا۔لیکن خدا کا کرنا کیا ہوا کہ ہمیں پتہ لگنے سے پہلے ہی وہ آگ بغیر کوئی نقصان پہنچائے خود ہی بجھ گئی یا بجھا دی گئی۔بہر حال کہتے ہیں ہم سفر پر تھے اگلے دن جب ہم واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ عمارت کے اس طرف جہاں اکثر حصہ لکڑی کا تھا آگ لگائی گئی تھی جس سے چند لکڑی کے تختے جل گئے مگر وہ آگ بڑھنے سے قبل ہی بجھ گئی۔چنانچہ اسی روز اس کی مرمت بھی کرا دی گئی۔کہتے ہیں جہاں نقصان ہوا تھا اس کا جائزہ لے رہے تھے تو مبلغ انچارج مولانا نور الحق صاحب انور نے اس جلے ہوئے کمرے پر کھڑے ہو کر بڑے دکھ بھرے انداز میں آہ بھر کر