خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 351
خطبات مسرور جلد چہارم 351 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 تمہارے گھر میں جو ڈاک آئے گی اس میں ضرور تمہارے بھائیوں کا خط ہوگا اور میری طرف بھی خط آ رہا ہے۔اگر مجھے پہلے خط پہنچا تو میں آپ کو پہنچا دوں گا اور اگر آپ کو پہلے مل گیا تو مجھے پہنچا دینا۔اصحاب احمد جلد 13 صفحہ 24 23) مولانا صادق سماٹری صاحب بیان کرتے ہیں کہ 6 مارچ 1942 ء تک جاپان سارے انڈونیشیا پر مسلط ہو چکا تھا اور اپنی من مانی کارروائیاں کرنے لگا تھا۔کسی کے متعلق کوئی شکایت پہنچے تو اس کی موت کا یہی بہانہ بن جاتی۔کوئی تفتیش ہوتی نہ تحقیقات۔فیصلہ سنا دیا جاتا۔بلکہ عموماً اسے سنانا بھی ضروری نہ سمجھا جاتا۔فوراً اسے نافذ ہی کر دیا جاتا۔کہتے ہیں میرے متعلق بھی جاپانی حکومت نے قتل کا فیصلہ کیا۔اطلاع دینے والے نے بتایا کہ میرے متعلق دو شکایات بھیجی ہیں۔نمبر ایک یہ کہ جماعت احمد یہ انگریزی حکومت کی مداح ہے۔نمبر دو یہ کہ تمام علماء اسلام سماٹرا نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ جاپان کی انگریزوں اور امریکہ سے یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔میں نے ایسا فتویٰ دینے سے انکار کیا بلکہ اس کے خلاف ایک مضمون لکھا ہے۔تو کہتے ہیں کہ اس پر میں نے جماعت کو تلقین کی کہ نماز تہجد کی ادائیگی کا التزام کیا جائے اس میں با قاعدگی اختیار کی جائے اور دعا کی جائے اور اگر کسی کو کوئی خواب آئے یا کشف یا کوئی نظارہ نظر آئے تو مجھے بتایا جائے۔کہتے ہیں اس تحریک کے بعد میں خود بھی ہر وقت دعا میں مشغول ہو گیا بلکہ ہمہ تن دعا بن گیا۔اور ہر وقت اپنے حقیقی مولا پر نظر تھی۔کہتے ہیں مجھے خوب یاد ہے کہ چوتھی رات تہجد کی نماز کے بعد فجر سے پہلے میں ذرا لیٹا تو ایک دیوار پر موٹے حروف میں لکھا ہوا دکھائی دیا کہ دانی ایل نبی کی کتاب کی پانچویں فصل پڑھو۔اذان ہوئی نماز فجر کے لئے اٹھا دوستوں کو جو حاضر تھے اپنے خواب سے مطلع کیا۔دانی ایل نبی کی کتاب کی پانچویں فصل دیکھی۔اس میں کیا لکھا تھا؟ لکھا تھا کہ بخت نصر کے بعد اس کا بیٹا بِلْشَضّر (Belshazzar) بادشاہ ہوا۔یہ بت پرست بھی تھا اور ظالم بھی۔اس نے ایک خواب دیکھا تھا ایک لمبا خواب ہے ) اس کی اس نے لوگوں کو اکٹھا کر کے تعبیر پوچھی لیکن ان سب نے کہا ہم کو اس کی تعبیر نہیں آتی۔آخر دانی ایل بادشاہ کے حضور حاضر کیا گیا اور اس نے کہا اے بادشاہ! یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس میں لکھا یہ گیا ہے کہ (ان کی کچھ زبان ہے) جس کے معنی یہ ہیں کہ خدا نے تیری مملکت کا حساب کیا اور اسے تمام کر ڈالا یعنی ختم کر دیا۔اور پھر دوسرے لفظ کے یہ معنے ہیں کہ تو ترازو میں تو لا گیا اور کم نکلا اور تیسرے لفظ کے یہ معنے ہیں کہ تیری سلطنت منقسم ہوئی اور مادیوں اور فارسیوں کو دی گئی۔جس دن نبی دانی ایل نے یہ تعبیر بتائی اسی دن بلشر (Belshazzar) قتل ہوا اور دارا مادی نے 62 برس کی عمر میں مملکت سنبھالی۔تو انہوں نے یہ خواب دیکھی تھی کہ اس فصل کو پڑھو اور جب وہ پڑھی گئی تو یہ اس کا مضمون تھا۔تو اس پہ وہ کہتے ہیں کہ اس سے بالوضاحت معلوم ہوتا ہے کہ جاپانی حکومت کا بھی وہی حشر ہوگا جو بلشضر