خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 340 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 340

340 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم کئے گئے تھے۔چنانچہ مولوی صاحب نے عدالت میں بیان دیا کہ 7 جنوری 1903ء کو مرزا غلام احمد قادیانی نے مواہب الرحمن جو اس کی اپنی تصنیف ہے اور جو ضیاء الاسلام پریس میں چھپی تھی اس کے صفحہ نمبر 129 پر ہتک آمیز الفاظ میری بابت درج کئے۔اس عبارت میں جو کذاب ، مھین کا لفظ لکھا گیا ہے وہ قرآن شریف میں ایک خاص کا فرولید بن مغیرہ کی نسبت لکھا گیا ہے۔اور اس لفظ کے کہنے سے مجھ کو گویا اس کا فر سے تشبیہ دی گئی ہے۔اب اس کو ذہن میں رکھیں تو آگے فیصلے میں پتہ لگے گا کہ عدالت نے کیا کہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا۔اب یہ ان لوگوں کی طرف سے ابتداء ہے۔کیا معلوم خدا تعالیٰ ان کے مقابلے میں کیا کیا تدابیر اختیار کرے گا۔یہ استغاثہ ہم پر نہیں، اللہ تعالیٰ پر ہی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ مقدمہ کر کے تھکانا چاہتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔اس وقت یہ پورا زور لگائیں تاکہ قتل کے مقدمے کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چھوٹ گیا۔یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا کی طرف سے پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اِكْرَاماً عجیبا کیسا ہوا۔مقدمہ ابھی ابتدائی حالت میں ہی تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے انجام کے بارے میں بھی بتا دیا۔چنانچہ 28 جنوری 1903ء کو الہام ہوا۔اِنَّ اللَّهَ مَعَ عِبَادِهِ واسيك یعنی خدا اپنے بندوں کے ساتھ ہے وہ تیری غم خواری کرے گا۔پھر 29 جنوری کو الہام ہوا سَاكْرِمُكَ إِكْرَامًا عَجِيْبًا یعنی شاندار رنگ میں تیری عزت قائم کی جائے گی۔17 فروری 1903ء کو الہام ہوا يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ وَفَتْحُ الْحُنَيْن روز دوشنبہ اور حسین والی فتح۔اس کے چھ ماہ بعد 18 راگست 1903ء کو الہام ہوا۔سَأَكْرِمُكَ بَعْدَ تَوْهِيْنِكَ یعنی تیری اہانت کے بعد تجھے عزت عطا کی جائے گی۔پھر 28 جون کو ایک الہام ہوا۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُوْنَ فِيْهِ آيَتٌ لِلسَّائِلِينَ۔کہ ان دونوں فریقوں میں سے خدا اس فریق کے ساتھ ہوگا اور اس کو فتح اور نصرت نصیب کرے گا جو پرہیز گار ہے اور خدا سے ڈر کر بندوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی اور نیکی کے ساتھ پیش آتا ہے۔اور بنی نوع کا وہ سچا خیر خواہ ہے۔سو انجام کا ران کے حق میں فیصلہ ہوگا۔تب وہ لوگ جو پوچھا کرتے ہیں کہ ان دونوں گروہوں میں سے حق پر کون ہے ان کے لئے یہ ایک نشان بلکہ کئی ایک نشان ظاہر ہوں گے۔( تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 279 278 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں سفر کی مزید تفصیل بیان فرماتے ہیں : ”جب میں 1904 ء میں کرم دین کے فوجداری مقدمہ کی وجہ سے جہلم میں جا رہا تھا۔تو راہ میں مجھے الہام ہوا أرِيْكَ بَرَكَاتٍ مِنْ كُلِّ طَرْفِ یعنی ہر ایک پہلو سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا۔اور یہ الہام اسی وقت تمام جماعت کو سنا دیا گیا بلکہ اخبار الحکم میں درج کر کے شائع کیا گیا۔اور یہ پیشگوئی اس طرح پر پوری ہوئی