خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 336 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 336

خطبات مسرور جلد چهارم 336 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 جناب الہی میں دعا کر کے بھینس بنا دیا ہے۔اور پھر اس خیال سے کہ ایک بڑا نشان ظاہر ہوا ہے سجدہ میں گرا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں۔رَبِّيَ الْاعْلَى رَبِّيَ الْاعْلٰی۔میرے خیال میں ہے کہ شاید اس کی تعبیر یہ ہو کہ لکڑی اور پتھر سے وہی سخت اور منافق طبع حاکم مراد ہو اور پھر میری دعا سے اس کا بھینس بن جانا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ ہمارے لئے ایک مفید چیز بن گئی ہے جس سے دودھ کی امید ہے۔اگر یہ تاویل درست ہے تو امید قوی ہے کہ مقدمہ پلٹا کھا کر نیک صورت پر آ جائے گا۔اور ہمارے لئے مفید ہو جائے گا اور سجدہ کی تعبیر دیکھی ہے کہ دشمن پر فتح ہو۔الہامات بھی اس کے قریب قریب ہیں۔( تذکرہ صفحہ 275 ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) پھر حقیقۃ المہدی میں آپ نے اس کے بارے میں ذرا تفصیل بیان فرمائی ہے۔فرمایا کہ ” مجھے 21 رمضان المبارک 1316 ہجری جمعہ کی رات کو جس میں انتشار روحانیت مجھے محسوس ہوتا تھا اور میرے خیال میں تھا کہ یہ لیلۃ القدر ہے اور آسمان سے نہایت آرام اور آہستگی سے مینہہ برس رہا تھا ایک رؤیا ہوا۔یہ رویا اُن کے لئے جو ہماری گورنمنٹ عالیہ کو ہمیشہ میری نسبت شک میں ڈالنے کے لئے کوشش کرتے ہیں میں نے دیکھا کہ کسی نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ اگر تیرا خدا قادر خدا ہے تو تو اس سے درخواست کر کہ یہ پتھر جو تیرے سر پر ہے بھینس بن جائے۔تب میں نے دیکھا کہ ایک وزنی پتھر میرے سر پر ہے جس کو کبھی میں پتھر اور کبھی لکڑی خیال کرتا ہوں۔تب میں نے یہ معلوم کرتے ہی اس پتھر کوزمین پر پھینک دیا۔پھر بعد اس کے میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ اس پتھر کو بھینس بنا دیا جائے اور میں اس دعا میں محو ہو گیا۔جب بعد اس کے میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پتھر بھینس بن گیا ہے۔سب سے پہلے میری نظر اس کی آنکھوں پر پڑی۔اس کی بڑی روشن اور لمبی آنکھیں تھیں۔تب میں یہ دیکھ کر کہ خدا نے پتھر کو جس کی آنکھیں نہیں تھیں ایسی خوبصورت بھینس بنا دیا جس کی ایسی لمبی اور روشن آنکھیں ہیں خوبصورت اور مفید جاندار ہے خدا کی قدرت کو یاد کر کے وجد میں آ گیا اور بلا توقف سجدہ میں گرا۔اور میں سجدہ میں بلند آواز سے خدا تعالیٰ کی بزرگی کا ان الفاظ میں اقرار کرتا تھا کہ رَبِّيَ الَّا عَلَى رَبِّيَ الْا تَعْلَی۔اور اس قدر اونچی آواز تھی کہ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ آواز دُور دُور تک جاتی تھی۔تب میں نے ایک عورت سے جو میرے پاس کھڑی تھی جس کا نام بھا تو تھا اور غالباً اس دعا کی اس نے درخواست کی تھی یہ کہا کہ دیکھ ہمارا خدا کیسا قادر خدا ہے جس نے پتھر کو بھینس بنا کر آنکھیں عطا کیں۔اور میں یہ اس کو کہہ رہا تھا کہ پھر یکدفعہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے تصور سے میرے دل نے جوش مارا اور میرا دل اس کی تعریف سے پھر دوبارہ بھر گیا اور پھر میں پہلی طرح وجد میں آکر سجدہ میں گر پڑا۔اور ہر وقت یہ تصور میرے دل کو خدا تعالیٰ کے آستانہ پر یہ کہتے ہوئے گراتا تھا کہ یا الہی تیری کیسی بلندشان ہے۔تیرے کیسے عجیب کام ہیں کہ تو نے ایک بے جان پتھر کو بھینس بنا دیا۔اس کو لمبی اور روشن آنکھیں عطا کیں جن سے وہ سب کچھ دیکھتا ہے۔اور نہ