خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 329 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 329

خطبات مسرور جلد چہارم 329 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 بلا گزارد با محبت با وفا صادق آن باشد که ایام یعنی خدا کی نظر میں صادق و شخص ہوتا ہے کہ جو بلا کے دنوں کومحبت اور وفاکےساتھ گزارتا ہے۔پھر اس کے بعد میرے دل میں ایک اور موزون کلمہ ڈالا گیا لیکن نہ اس طرح پر کہ جو الہام جلی کی صورت ہوتی ہے بلکہ الہام خفی کے طور پر دل اس مضمون سے بھر گیا ، یعنی دل میں خیال تھا کہ الہام ہے۔اور وہ یہ تھا۔گر قضا را عاشقی گردد عاشقی گردد اسیر بوسد آں زنجیر را کز آشنا یعنی اگر اتفاقاً کوئی عاشق قید میں پڑ جائے تو اس زنجیر کو چومتا ہے جس کا سبب آشنا ہوا۔پھر اس کے بعد یہ الہام ہوا۔إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ۔إِنِّي مَعَ الْافْوَاجِ آتِيْكَ بَغْتَةً۔يَاتِيْكَ نُصْرَتِي۔إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ ذُو الْمَجْدِ وَالْعُلَى - ترجمہ یعنی وہ قادر خدا جس نے تیرے پر قرآن فرض کیا پھر تجھے واپس لائے گا۔یعنی انجام بخیر و عافیت ہوگا۔میں اپنی فوجوں کے سمیت (جو ملائکہ ہیں ) ایک ناگہانی طور پر تیرے پاس آؤں گا۔میں رحمت کرنے والا ہوں۔میں ہی ہوں جو بزرگی اور بلندی سے مخصوص ہے یعنی میرا ہی بول بالا رہے گا۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق۔( اور پھر اخیر حکم ابراء) یعنی بے قصور ٹھہرانا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا وَفِيهِ شيءٌ۔یعنی بریت تو ہو گی مگر اس میں کچھ چیز ہوگی۔( یہ اس نوٹس کی طرف اشارہ تھا جو بری کرنے کے بعد لکھا گیا تھا کہ طرز مباحث نرم چاہئے۔) پھر ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ بَلَجَتْ آيَاتِی کہ میرے نشان روشن ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہو جائیں گئے“۔فرماتے ہیں: ” چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس مقدمے میں جو 1897ء ( کتاب میں 1899ء لکھا ہوا ہے وہ لگتا ہے کتابت کی غلطی ہے) میں عدالت مسٹر ہے۔آر۔ڈریمنڈ صاحب بہادر میں فیصلہ ہوا۔عبدالحمید ملزم تھا اس نے اقرار کیا کہ اس کا پہلا بیان جھوٹا تھا۔پھر الہام ہوا کہ لواء فتح۔یعنی فتح کا جھنڈا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا کہ اِنَّمَا أَمْرُنَا إِذَا أَرَدْنَا شَيْئًا اَنْ نَّقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْن یعنی ہمارے امور کے لئے ہمارا یہی قانون ہے کہ جب ہم کسی چیز کا ہو جانا چاہتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہو جا۔پس وہ ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں نے یہ الہام بہت سارے لوگوں کو پہلے سے بتا دیا تھا اور اس پیشگوئی کی خبر کر دی تھی کہ اگر ان سب کے نام لکھنے بیٹھوں تو صفحوں کے صفحے ان کے بھر جائیں جن کو میں نے اطلاع دی تھی۔