خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 328

خطبات مسرور جلد چہارم 328 بیان نہیں ہوسکتیں ، بہر حال کچھ حد تک پیش کروں گا۔خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی تھی۔(1) اوّل وہ موقع جبکہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک نے خون کا مقدمہ کیا تھا۔(2) دوسرے وہ موقعہ جبکہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کچہری میں میرے پر چلایا تھا۔(3) تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو ایک شخص کرم الدین نام نے ہم مقام جہلم میرے پر کیا تھا۔(4) وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا۔(5) پانچویں جب لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی لی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگایا تھا تا میں قاتل قرار دیا جاؤں۔مگر وہ تمام مقدمات میں نامرادر ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 263 حاشیہ) اب میں ان کی تفصیل بیان کرتا ہوں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔یہ بھی خلاصتہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلے مقدمے کے بارے میں اپنی کتاب تریاق القلوب میں فرماتے ہیں کہ 29 جولائی 1897ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اس نے کچھ نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور میں اس کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔اور جبکہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے۔پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا کہ مَا هَذَا إِلَّا تَهْدِيدُ الْحُكّام یعنی یہ جود یکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہوگی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا قَدِ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُون ترجمہ: مومنوں پر ایک ابتلاء آیا یعنی بوجہ اس مقدمہ کے تمہاری جماعت ایک امتحان میں پڑے گی۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ لَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الْمُجَاهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِيْنَ۔یہ میری جماعت کی طرف خطاب ہے کہ خدا نے ایسا کیا تا خدا تمہیں جتلاوے کہ تم میں سے وہ کون ہے کہ اس کے مامور کی راہ میں صدق دل سے کوشش کرتا ہے اور وہ کون ہے جو اپنے دعوئی بیعت میں جھوٹا ہے۔سوا ایسا ہی ہوا۔ایک گروہ تو اس مقدمہ اور دوسرے مقدمہ میں جو مسٹر ڈوئی صاحب کی عدالت میں فیصلہ ہوا صدق دل سے اور کامل ہمدردی سے تڑپتا پھرا۔اور انہوں نے اپنی مالی اور جانی کوششوں میں فرق نہیں رکھا۔اور دکھ اٹھا کر اپنی سچائی دکھلائی۔اور دوسرا گروہ وہ بھی تھا کہ ایک ذرہ ہمدردی میں شریک نہ ہو سکے۔سوان کے لئے وہ کھڑکی بند ہے جو ان صادقوں کے لئے کھولی گئی۔پھر یہ الہام ہوا کہ :