خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 309
خطبات مسرور جلد چهارم 309 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء آیا۔آپ کے سارے صحابہ شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے مگر حضرت عباس بن عبد المطلب اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہما نہیں بھاگے تھے۔تو حضور نے زمین سے ایک مٹھی لی اور ہمارے چہروں پر پھینک دی تو ہم شکست کھا گئے۔پس یہی خیال کیا جارہا تھا کہ ہر شجر اور حجر ہماری تلاش میں ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی مدداور لشکروں کو مخالفین نے بھی دیکھا۔ان کو بھی نظر آ رہا تھا کہ یہ مسلمانوں کی فوج نہیں لڑا رہی بلکہ کوئی اور لڑ رہا ہے۔اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت ہے جو فرشتوں کے ذریعے سے حملہ آور ہو رہی ہے۔بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں یہ تھا کہ آج اس جگہ کی ہر مخلوق ہمارے خلاف ہے۔مٹی کا ایک ذرہ بھی ہمارے خلاف ہے۔درخت، پتے اور ہر چیز ہمارے خلاف چل رہی ہے اور جنگ لڑ رہی ہے۔تو یہ تھے اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے۔اور چوتھا واقعہ جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہودیہ نے ہلاک کرنے کی خوفناک سازش کی تھی۔وہ زہر دینا تھا جس کی کافی مقدار آپ کو دی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مددفرمائی اور اس منصوبے کو ظاہر کر دیا۔روایت میں ذکر آتا ہے کہ ایک یہودی سردار کی بہن نے آپ کو ایک بھنی ہوئی ران پیش کی اور اس پر اچھی طرح زہر لگا دیا۔آپ تصحابہ کے ساتھ بیٹھ کر اس کو کھانے لگے۔کچھ صحابہؓ نے پہلے بھی کھانا شروع کر دیا۔لیکن آپ نے جب منہ میں لقمہ ڈالا تو فوراً پتہ لگ گیا۔آپ نے فوراً کہا کہ اس کو چھوڑ دو۔اس یہود یہ کو بلایا گیا۔تو اس نے تسلیم کیا اور پھر وہ کہنے لگی کہ آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ آپ نے گوشت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس نے۔پھر آپ نے اس سے پوچھا تمہارا اس سے مقصد کیا تھا۔تم کیا چاہتی تھی؟ ہمیں کیوں ہلاک کرنا چاہتی تھی ؟ تو کہتی ہے کہ میرا خیال تھا کہ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں، رسول ہیں تو اس زہر سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس زہر سے محفوظ رکھے گا۔اور اگر نہیں تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔(ابو داؤد كتاب الديات باب فى من سقى رجلا۔۔۔حدیث نمبر (4510 تو بہر حال اس زہر کا اثر جو تھا وہ بشری تقاضے کے تحت ایک انسان پر جو ہونا چاہئے وہ آپ پر تھوڑا سا ہوا۔آپ کے گلے پر اثر رہا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی مددفرماتے ہوئے ایک تو پہلے آپ کو آگاہ کر دیا کہ یہ زہر ہے۔پھر باقی جو اس کے خطرناک نتائج ہو سکتے تھے اس سے بھی محفوظ رکھا۔پھر پانچواں واقعہ جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر کیا ہے۔یہ بھی بڑا عظیم واقعہ ہے کہ بادشاہ وقت کے مقابل پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی کس طرح مدد فرمائی۔اس کا ذکر یوں ملتا ہے کہ kh5-030425