خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 308
خطبات مسرور جلد چہارم 308 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء پر اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر اتنا یقین ہوتا تھا لیکن باوجود یقین ہونے کے کبھی دعا کا ساتھ نہیں چھوڑا۔جب بھی کوئی جنگ ہوئی ہوتی مہم سر کرنی ہوتی آپ ہمیشہ دعا کیا کرتے تھے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کرتے تو یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ! تو ہی میرا سہارا ہے اور تو ہی میرا مددگار ہے اور تیری ہی دی ہوئی توفیق سے میں جنگ کر رہا ہوں۔(مسند احمد بن حنبل، مسند انس بن مالك حديث نمبر 12940 صفحه 476 عالم الكتب بيروت ایڈیشن (1998ء) تو دعا تو آپ ہمیشہ کیا کرتے تھے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ اس میں کمزور ایمان والوں کی وجہ سے نقصان مسلمانوں کو اٹھانا پڑا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔فرماتا ہے لقد نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِيْنَ) (التوبہ : 25 ) کہ یقینا اللہ بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کر چکا ہے خاص طور پر حسنین کے دن بھی جب تمہاری کثرت نے تمہیں تکبر میں مبتلا کر دیا تھا۔پس وہ تمہارے کسی کام نہ آ سکی اور زمین کشادہ ہونے کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی۔پھر تم بیٹھ دکھاتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔یعنی تمہاری کثرت تعداد یا اس وجہ سے تکبر جو بعض نئے آنے والے مسلمانوں کے دل میں پیدا ہو گیا تھا یہ کسی کام نہ آسکا کہ ہماری تعداد زیادہ ہے، ہم طاقتور ہیں، ہمارے پاس ہتھیار بہت زیادہ ہیں۔اُس وقت پہلا حملہ جیتنے کے باوجود شکست کی صورت پیدا ہوگئی لیکن ہمیشہ کی طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت ہی کام آئی اور وہ اس لئے کہ اللہ کا اپنے رسول اور بچے اور پکے مومنوں سے وعدہ ہے کہ میں تمہارا مددگار بنوں گا اور یہ بتادیا کہ اصل فتح تمہاری پہلے بھی اور آئندہ بھی میری نصرت کی وجہ سے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ہے جس کو میں ہمیشہ قبول کرتا ہوں اور اس نصرت اور دعا کا نتیجہ ہے کہ اس جنگ میں بھی حالات بدلے اور پھر مسلمانوں نے آخر نتیجہ فتح پائی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اَنْزَلَ اللهُ سَكِيْنَتَهُ عَلَى رَسُوْلِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَفِرِيْنَ ﴾۔(التوبہ : 26 ) پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل کی اور ایسے لشکر اتارے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔اور اس نے ان لوگوں کو عذاب دیا جنہوں نے کفر کیا تھا اور کافروں کی ایسی ہی جزا ہوا کرتی ہے۔پس یہ جو فتح تھی یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کی وجہ سے تھی اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے دلوں میں سکیت بھی پیدا کر رہا تھا اور مددبھی فرمارہا تھا جو دشمنوں کو بھی نظر آ رہی تھی۔حارث بن بدل نے بیان کیا کہ میں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لئے kh5-030425