خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 307
خطبات مسرور جلد چہارم 307 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ایسے حالات میں جو نتیجہ نکلنا چاہئے اور دشمن کی جو کوشش تھی کہ آج مسلمانوں کو مکمل طور پر شکست کا سامنا کرنے پڑے اور آج موقع ہے کہ ان کو ختم کر دیا جائے یا اتنی کمر توڑ دی جائے کہ یہ اٹھنے کے قابل نہ رہیں تو یہ نتیجہ جو وہ نکالنا چاہتے تھے اور دشمن کی جو کوشش تھی کہ بالکل ختم کر دینا ہے، آپ کو قتل کرنے کی بھی نعوذ باللہ کوشش تھی جو نا کام ہوئی۔ایسے حالات میں سوائے اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت کے یہ ہو نہیں سکتا۔مسلمانوں کو مکمل طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے جو نقصان اٹھانا پڑا اور اس کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ نکلا لیکن دشمن کو جس آخری نتیجے کی تمنا تھی ، خواہش تھی وہ اللہ تعالیٰ نے پوری نہ ہونے دی۔پھر ( حضرت مسیح موعود نے تو اس کا ذکر نہیں کیا لیکن قرآن کریم میں اس کا ذکر آتا ہے ) حنین کی جنگ میں جب مسلمانوں کو اپنی تعداد دیکھ کر یہ خیال ہوا کہ اب ہم بہت بڑی تعداد میں ہو گئے ہیں ، بارہ ہزار کا لشکر ہے کون ہم پر غالب آ سکتا ہے۔کیونکہ اس لشکر میں نئے آنے والے مسلمان بھی شامل تھے لیکن ان نئے آنے والوں میں ایمان کی کمزوری بھی تھی۔شروع میں ایک حملے کے بعد ایسی حالت پیدا ہوئی کہ شکست کی صورت پیدا ہونی شروع ہو گئی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے وعدے کے مطابق کہ میرا لشکر ہی غالب آتا ہے اپنی نصرت فرماتے ہوئے ان بدلے ہوئے مخالف حالات کو مسلمانوں کے حق میں بدل دیا۔یہاں اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ تمہاری اکثریت یا تمہاری عقل یا تمہاری طاقت غالب نہیں آئے گی بلکہ ہر غلبہ میری نصرت کا مرہون منت ہے اس لئے ہمیشہ مجھ سے ہی مدد مانگو۔اس نکتے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی سمجھتے تھے اور پرانے صحابہ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر سایہ تربیت پائی وہ بھی سمجھتے تھے لیکن نئے آنے والوں کو علم نہیں تھا۔تو بہر حال اس جنگ میں جیسا کہ میں نے کہا بعض کمزور ایمان والے بھی تھے اور کیونکہ فورا فتح مکہ کے بعد ہی یہ جنگ لڑی گئی تھی اور اکثر کے ایمان ایسے پختہ ابھی نہیں ہوئے تھے نہ تربیت تھی اور کچھ ویسے بھی دل سے ایمان بھی نہیں لائے ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا جہاں تک سوال ہے اللہ سے مدد مانگتے ہوئے آپ کی دعا کا تو ہمیشہ یہ حال رہتا تھا جس کی حالت ہمیں جنگ بدر کے واقعہ میں نظر آتی ہے کہ کس طرح تڑپ تڑپ کر آپ اللہ سے نصرت مانگ رہے تھے۔آخر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہنا پڑا کہ آپ کو اتنی فکر کیوں ہے۔اللہ کا آپ سے وعدہ ہے کہ وہ ہمیشہ آپ کی تائید و نصرت فرمائے گا۔تو بہر حال جنگ حنین میں یہ مسلمانوں کے ایمان کی کمزوری تھی جس کا نتیجہ شروع میں مسلمانوں نے دیکھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ کا تو ہر جنگ میں دعا kh5-030425