خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 302
خطبات مسرور جلد چهارم 302 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء ہے، فکروں کو دور فرما دیتا ہے اور اپنی تائیدات کے نظارے دکھاتا ہے۔اور ان نظاروں کی انتہا اور معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہم پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسے بے انتہا واقعات ہیں جہاں ہمیں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت نظر آتی ہے۔میں نے اس خطبے میں قرآن کریم سے، ہجرت کے وقت اور پھر جنگ بدر میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی ، وہ آیات پیش کی تھیں اور ان کی مختصر وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں کی تھی۔جیسا کہ میں نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے واقعات سے بھری پڑی ہے ان ساروں کو بیان کرنا تو ممکن نہیں ان میں سے کچھ روایات کے حوالے سے میں اس وقت آپ کے سامنے رکھوں گا جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح فرشتوں کی فوج کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و نصرت فرما تا رہا۔آپ کی زندگی میں آپ کے دعویٰ نبوت کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ دشمن ہر موقع پر آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہا اور جیسا کہ تمام انبیاء سے ہوتا چلا آیا ہے دشمن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ابتداء میں ہی نبی کو نقصان پہنچا کر یا اس کی جماعت کو نقصان پہنچا کر ختم کر دیا جائے۔یا ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جس سے نبی کا دعویٰ جھوٹا ہونے کا خیال لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کوشش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے زمانے میں ہوئی۔آپ کے ماننے والوں پر سختیاں کی گئیں، آپ پر بے انتہا ظلم کئے گئے، آپ کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا جس کی وجہ سے آپ کے خاندان کو ، اور آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو شعب ابی طالب میں ان ظلموں سے بچنے کے لئے جانا پڑا اور وہاں تقریباً تین سال تک رہے۔وہاں خوراک کا کوئی ایسا ذخیرہ تو تھا نہیں۔کچھ عرصہ بعد بھوک اور پیاس کی سختیاں سب کو، بچوں کو اور بوڑھوں کو اور عورتوں کو برداشت کرنی پڑیں۔بھوک اور پیاس سے بچے ، بڑے سب بیقرار تھے۔حالت یہ تھی کہ ایک صحابی نے رات کے وقت چلتے ہوئے اپنے پاؤں کے نیچے آنے والی کسی نرم چیز کو اٹھا کر کھا لیا کہ اپنی بھوک مٹا سکیں۔وہ کہتے ہیں کہ مجھے آج تک نہیں پتہ لگا کہ میں نے کیا کھایا تھا۔بہر حال تین سال بعد اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرما دیا کہ بائیکاٹ کا معاہدہ جو قریش کے بعض قبائل نے کیا تھا اور جس کی وجہ سے آپ کو اپنے خاندان سمیت شعب ابی طالب کی گھائی میں جانا پڑا اور وہاں جا کے رہنا پڑا۔یہ معاہدہ کعبہ کی دیوار پر لٹکایا گیا تھا تا کہ ہر ایک قبیلے کو پتہ لگ جائے اور کوئی خلاف ورزی نہ کرے۔اس معاہدے کے بارے میں ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چچا ابوطالب سے فرمایا kh5-030425