خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 303
خطبات مسرور جلد چهارم 303 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء کہ مجھے میرے خدا نے بتایا ہے کہ جو معاہدہ کعبہ کی دیوار پر لٹکایا گیا ہے وہ تمام کا تمام کیڑے نے کھا لیا ہے اور صرف خدا کا نام اس پر باقی رہ گیا ہے۔چنانچہ ابو طالب نے خانہ کعبہ جا کر قریش کے بڑے بڑے سردار جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے ان سے کہا کہ اس طرح میرے بھتیجے نے مجھے بتایا ہے۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے دیکھ لیتے ہیں۔چنانچہ جب وہ اس معاہدے کو دیکھنے گئے تو اس کی حالت بالکل وہی تھی جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھی۔چنانچہ اس پر جو نرم دل سرداران قریش تھے انہوں نے کہا اب بہت ہو چکی کیونکہ پہلے بھی ان میں سے بعضوں کے دل نرم ہورہے تھے اور وہ چاہتے تھے یہ کسی طرح ختم ہو، اس لئے قطع تعلقی اب بند ہونی چاہئے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ہی تھی جس کی وجہ سے معاہدہ اس طرح ختم ہوا۔یہ ٹھیک ہے کہ کچھ عرصہ تک آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو ایک امتحان سے گزرنا پڑا لیکن اس بات کی طاقت اس وقت کسی میں نہ تھی کہ ان سرداران قریش کے مقابلے پر اس گھائی سے باہر آکر اپنے روزمرہ کے معمولات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مدد ہی تھی جس نے ایسا انتظام فرما دیا۔اس معاہدے کا کچھ بھی نہ رہا اور چند شرفاء کے دل میں اس وجہ سے خوف اور ہمدردی کے جذبات بھی پیدا ہوئے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے حق میں تائید و نصرت کی ہوائیں چلاتا ہے۔ایسے مواقع دکھاتا ہے جو غیروں کو بھی نظر آئیں۔گوراستے میں عارضی مشکلات آتی ہیں لیکن آخر کا ر خدا کا گروہ ہی غالب آتا ہے۔اور اس وعدے کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ پر تو گل کی وجہ سے انبیاء اور ان کی جماعتیں اللہ کے پیغام کو آگے بھی پہنچاتی ہیں اور اس کے ساتھ چھٹی رہتی ہیں اور باوجود سختیاں اور تکلیفیں برداشت کرنے کے ان کے قدم پیچھے نہیں ہٹتے اور ان کے دلوں میں کبھی ور غیر اللہ کا کوئی خوف پیدا نہیں ہوتا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام نبیوں کے سردار، خاتم الانبیاء تھے آپ پر بھی مشکلات کے بہت زیادہ ایسے موقعے آئے جو زیادہ کڑی مشکلات تھیں، بہت زیادہ سخت مشکلات تھیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت کے غیر معمولی نظارے بھی دکھائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پانچ مواقع آپ کی زندگی کے ایسے ہیں جو انتہائی غیر معمولی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے بغیر ان سے نکلنا محال ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔انکے اپنے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ: یادر ہے کہ پانچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا۔اگر آنجناب در حقیقت خدا کے سچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے۔kh5-030425