خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 292 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 292

خطبات مسرور جلد چهارم 292 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء تعلیم کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے بھیجا تھا۔پس ہماری کمزوریوں اور غلطیوں کی وجہ سے اس ہدایت سے ہمیں محروم نہ کر دینا بلکہ خود ہمیں ہدایت دیئے رکھنا۔خود ہمیں سیدھے راستے پر چلائے رکھنا۔اے اللہ تو دعاؤں کو سننے والا اور دلوں کا حال جاننے والا ہے۔ہماری ان عاجزانہ اور متضرعانہ دعاؤں کوسن، ہماری اس نیک نیت کا بدلہ عطا فرما جو ان مساجد کی تعمیر کے پیچھے کار فرما ہے کہ تیرا نام دنیا کے اس علاقے میں بھی ظاہر ہو جہاں ہم مسجد تعمیر کرنے جارہے ہیں۔ہماری نیتیں تیرے سامنے ہیں تو ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے تو ہماری پاتال تک سے بھی واقف ہے۔تو وہ بھی جانتا ہے جس کا ہمیں علم نہیں۔پس ہمیں اپنا قرب عطا فرما اور ہمیں مزید مسجدیں بنانے کی توفیق دیتا چلا جا اور ہم پر اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صادق فرما کہ جو شخص اللہ کی خاطر مسجد تعمیر کرتا ہے اللہ بھی اس کے لئے جنت میں اُس جیسا گھر تعمیر کرتا ہے۔پس تو ہمیں حقیقی مومنوں میں شمار فرما۔آج احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے عموماً ایسی سوچ کے ساتھ مسجد تعمیر کرتے ہیں اور مسجد کی تعمیر کے لئے مالی قربانیاں دیتے ہیں، اور مسجدوں کو آبا در کھتے ہیں۔لیکن بعض کمزور بھی ہوتے ہیں جو مالی قربانیاں تو دے دیتے ہیں لیکن مسجدوں کو آباد کرنے میں ان سے سنتی ہو جاتی ہے۔اس کے لئے بھی ہر احمدی کو خاص کوشش کرنی چاہئے ، ہر انتظام کو خاص کوشش کرنی چاہئے۔یہ کہنا کہ فلاں شہر میں مسجد اتنی دور ہے، شہر سے دور بنی ہوئی ہے، اس لئے آبادی مشکل ہے۔یہ سب نفس کے بہانے ہیں۔اگر ارادہ ہو اور نیت نیک ہو تو آج یہاں ہر ایک کو اس ملک میں اور مغربی ممالک میں سواری میسر ہے جس پر آسانی سے مسجد میں جاسکتے ہیں۔بہانے تلاش کرنے ہیں تو سو بہانے مل جاتے ہیں۔مثلاً ایک لکھنے والے نے مجھے لکھا کہ جرمنی میں ہماری جو مسجدیں بن رہی ہیں وہ آبادی سے باہر بن رہی ہیں، کمرشل امیر یا یا انڈسٹریل ایریا ہے وہاں بن رہی ہیں۔کیا جماعت جرمنی ، یا جو بھی مسجدیں بنانے والی کمیٹی ہے، وہ وہاں کے رہنے والے جرمنوں کے لئے مسجدیں بنا رہی ہے یا احمد یوں کے لئے بنا رہی ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اللہ سے امید رکھنی چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔جو پہلے بھی میں نے بتائی ہے کہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا کہ اے اللہ اس قربانی کو قبول فرما۔﴿إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ (البقرة : 128 )۔تو دعاؤں کو سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔ہماری نیت یہ ہے کہ مسجدیں بنانے سے ہماری عبادتوں میں بھی باقاعدگی پیدا ہو اور یہ مسجد یہاں تیرے مسیح کی خواہش کے مطابق احمدیت کی تبلیغ کا ذریعہ بھی بنے۔اس کے لئے ہماری دعاؤں کو سنتے ہوئے ، ہماری قربانی کو قبول کرتے ہوئے اس مسجد کے ارد گرد ہمیں اس قوم میں سے بھی نمازی عطا فرمادے، تو اللہ تعالیٰ یقیناً ایسی دعاؤں کو kh5-030425