خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 267
خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء 267 (22) خطبات مسرور جلد چہارم اللہ تعالیٰ کی صفت ناصر اور نصیر کی پر معارف تفسیر آج احمدی ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے حقیقی مخاطب بھی ہیں اور مصداق بھی ہیں اب بھی وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس دنیا میں دیکھنے کے لئے اس مسیح محمدی کو مانیں۔اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت مسلمان امت پر کس طرح نازل ہوتی ہے فرمودہ مورخہ 02 جون 2006ء (02 / احسان 1385 هش) مسجد بیت الفتوح، لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی: إِنَّا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الَّا تَشْهَادُ ﴾ (المؤمن :52) اللہ تعالیٰ جب اپنے انبیاء دنیا میں بھیجتا ہے تو ان کے دل اس یقین سے پُر کرتا ہے کہ زندگی کے ہر لحہ پر ، ہر موڑ پر اللہ تعالیٰ ان کا معین و مددگار ہو گا۔اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کا یہ یقین ہی ہے جو انہیں تو کل میں بڑھاتا چلا جاتا ہے اور جو انبیاء کی تاریخ ہمارے سامنے ہے جس کی معراج ہمیں آنحضرت صلی اللہ kh5-030425