خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 257
257 خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم کے فضل سے اس کے اچھے نتائج بھی نکلے تھے لیکن انسان کی فطرت ہے کہ اگر بار بار یاد دہانی نہ کرائی جائے تو بھول جاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فَذَسِحر کا حکم دیا ہے۔اس یاددہانی سے جگالی کرنے کا بھی موقع ملتارہتا ہے اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اگر اصلاح کے لئے ذراسی توجہ دلا دی جائے تو اصلاح کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ان کو صرف ہلکی سی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ہاں بعض ایسے بھی ہیں جو کوئی نصیحت سن کر یا کوئی خطبہ سن کر جو کبھی میں نے کسی خاص موضوع پر دیا یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں نہیں بلکہ فلاں کے بارے میں ہے اور پھر بڑی ڈھٹائی سے خطبے کا حوالہ دے کر مجھے بھی لکھتے ہیں کہ آپ نے فلاں خطبہ دیا تھا اس کے حوالے سے میں آپ کو لکھ رہا ہوں کہ فلاں عہد یدار یا فلاں احمدی ان حرکتوں میں ملوث ہے، ان برائیوں میں گھرا ہوا ہے اس کی اصلاح کی طرف آپ توجہ دیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا اگر تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ اس برائی میں وہ شکایت کنندہ خود گرفتار ہے۔پس ہر احمدی کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نصیحت سے یا خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں توجہ دلائی جائے تو سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھے۔اگر اپنی اصلاح کرنی چاہتے ہیں، اگر معاشرے سے گند ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنا چاہتے ہیں تو یہ تمام برائیاں ایسی ہیں۔ان کو اپنے دلوں سے نکالیں۔اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ہمیں توجہ دلائی ہے۔پس یہ اہم بیماریاں ہیں جو انسان کے اپنے اندر سے بھی روحانیت ختم کرتی ہیں اور پھر شیطانیت کی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں اور معاشرے کا امن وسکون بھی برباد کرتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزہ کتاب میں ان سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ ایک مومن ہرلمحہ پاکیزگی اور روحانیت میں ترقی کرتا چلا جائے۔اس مقصد کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تا کہ روحانیت میں ترقی کی طرف ہمیں لے کر چلیں اور ایک احمدی نے آپ سے عہد بیعت باندھا ہے۔اگر اس عہد بیعت کے بعد بھی برائیوں میں مبتلا رہے اور معاشرے میں فتنہ و فساد پیدا کرتے رہے تو پھر اس عہد بیعت کا کیا فائدہ ہے۔پس ہر ایک کو پہلے اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے، نیکی کے جو احکامات ہیں انکی جگالی کرتے رہنا چاہئے اور جب اپنے آپ کو ہر طرح سے پاک وصاف پائیں تو پھر دوسرے پر الزام لگانا چاہئے۔اب ان برائیوں کے بارے میں ذرا تفصیل سے کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے میں حسد کو لیتا ہوں۔kh5-030425