خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 258
258 خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح بھسم کر دیتا ہے جس طرح آگ ایندھن کو اور گھاس کو بھسم کر دیتی ہے۔(ابو داؤد) كتاب الادب، باب فی الحسد و حدیث نمبر (4903 تو اگر انسان کے دل میں خدا کا خوف ہو تو وہ یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میرے اندر بڑی نیکی ہے اور یہ کہ یہ نیکی ہمیشہ میرے اندر قائم بھی رہنی ہے۔پس اگر کسی سے کوئی نیکی کی بات ہوتی ہے تو اللہ کا خوف رکھنے والے اور حقیقت میں نیک بندے اس پر ہمیشہ قائم رہنے کی دعا کرتے ہیں۔اور ہر احمدی کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے نیکیوں کو اپنے اندر قائم رکھنے کی کوشش کرے اور سب سے زیادہ جو نیکیوں کو جلا کر خاک کرنے والی چیز ہے اس سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں اور جیسا کہ اس حدیث میں جو میں نے پڑھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ حسد ہے۔پس اس حسد کی بیماری کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں۔تمام زندگی کی نیکیاں حسد کے ایک عمل سے ضائع ہوسکتی ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مسلمان آگ میں داخل نہیں ہوگا جس نے کسی کا فر و مارا ہوگا اور پھر میانہ روی اختیار کی ہو اور مومن کے پیٹ میں اللہ کی راہ میں پڑی ہوئی غبار اور جہنم کی پیپ دونوں جمع نہیں ہوں گے اور نہ کسی شخص میں ایمان اور حسد جمع ہوسکتا ہے۔66 ( سنن نسائی، کتاب الجهاد باب فضل من عمل في سبيل الله على قدمه حدیث نمبر (3109) یعنی اس موجودہ زمانے کے لئے اصل میں بعد والی دونوں چیزیں ہیں۔یعنی حسد کرنے والے کی حالت ایسی ہے جیسے جہنم کی پیپ پینے والے کی۔اللہ تعالیٰ پر جو ایک مومن کا ایمان ہے، حسد اس کو ضائع کرنے کا بھی باعث بنتا ہے۔یا حسد کرنا جو ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جہنم میں لے جانے والی چیز ہے۔پس یہ انتہائی خوف کا مقام ہے۔یہ حسد کرنے والے دوسرے کو عارضی اور وقتی طور پر جو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس کا تو مداوا ہو جاتا ہے لیکن یہ اس حسد کی وجہ سے اپنے ایمان کو ضائع کر کے پھر جہنم اپنے اوپر سہیٹر رہے ہوتے ہیں۔اس لئے کسی کی ترقی دیکھ کر کسی کا خلافت کے ساتھ زیادہ قرب دیکھ کر کسی پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش دیکھ کر حسد کرنے کی بجائے اس پر رشک کرنا چاہئے اور خود وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم kh5-030425