خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 252
252 خطبات مسرور جلد چہارم خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء اور پھر انہوں نے وصیت کے نظام میں بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔تو یہ جو عجیب عجیب نظارے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کے کئے گئے وعدے کے مطابق ہیں کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا ، ہمیں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔اور خود اللہ تعالیٰ اس کا انتظام فرما رہا ہے۔ان کے دلوں میں احمدیت اور حقیقی اسلام کی محبت گڑتی چلی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو اخلاص و وفا میں مزید بڑھاتا چلا جائے۔نیوزی لینڈ میں ڈاکٹر کلیمنٹ ریگ کے پوتے اور پوتی سے بھی ملنے کا موقع ملا۔ان سے رابطہ بھی اللہ کے فضل سے اتفاق سے ہو گیا۔پہلے تو مجھے نصیر قمر صاحب نے چلنے سے پہلے لکھا تھا کہ اس طرح یہ وہاں رہتے ہیں۔اور ان کے بارے میں بتاتا ہوں کہ کون تھے۔پھر نیشنل پریذیڈنٹ کو ہم نے لکھا انہوں نے انٹرنیٹ پر مختلف آرگنائزیشن سے رابطہ کر کے پتہ کروایا کیونکہ یہ ایک مشہور سائنسدان تھے، ان کے خاندان کا پتہ لگ گیا۔یہ ڈاکٹر کلیمنٹ صاحب جو ہیں یہ 1908ء میں ہندوستان آئے تھے اور یہ مختلف جگہوں پر یچر دیتے رہے۔نیوزی لینڈ کے رہنے والے تھے اور آسٹرانومی کے ماہر تھے۔لاہور میں جب انہوں نے لیکچر دیئے تو وہاں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو پتہ چلا انہوں نے ان کا لیکچر سنا اور اس کے بعد ان سے رابطہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں بتایا تو ڈاکٹر کلیمنٹ نے حضرت مسیح موعود کو ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔پہلے تو کہا کہ ابھی چلیں میرے ساتھ۔انہوں نے کہا ابھی تو نہیں چل سکتے ، وقت لے کے۔تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وقت لیا اور 12 مئی 1908 ء کو پہلی ملاقات ہوئی اور پھر 18 مئی 1908 کو دوسری ملاقات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وقت لے کے انہوں نے کی اور بڑی تفصیل سے مختلف موضوعات پر سوال و جواب ہوئے۔کائنات کے بارے میں روح کے بارے میں، مذہب کے بارے میں ، خدا تعالیٰ کے بارے میں۔تو بہر حال ان سوالوں کی ایک لمبی تفصیل ہے، جو ملفوظات میں بھی اور ریویو کے انگریزی حصے میں بھی چھپی ہوئی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس گفتگو کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عرض کیا۔میں تو سمجھتا تھا کہ سائنس اور مذہب میں بڑا تضاد ہے جیسا کہ عام طور سے علماء میں مانا گیا ہے مگر آپ نے تو اس تضاد کو بالکل اٹھا دیا ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہی تو ہمارا کام ہے اور یہی تو ہم ثابت کر رہے ہیں کہ سائنس اور مذہب میں بالکل اختلاف نہیں۔پھر ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود کا شکریہ ادا کیا اور اس گفتگو کے بعد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دوسمنگز (Sittings) ہوئی تھیں ڈاکٹر صاحب کی طبیعت پر جو اس کے اثرات تھے۔اس کا ذکر حضرت مفتی صادق صاحب نے پھر ایک اور مجلس میں حضور کی خدمت میں کیا۔یہ 23 مئی وفات سے چند دن قبل کا واقعہ ہے kh5-030425