خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 253
خطبات مسرور جلد چہارم 253 خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء کہ اس کی طبیعت میں اتنا فرق پڑ گیا ہے کہ بالکل خیالات بدل گئے ہیں۔کہیں تو وہ حضرت عیسی کی مثالیں دیا کرتا تھا اور کفارہ کا ذکر کیا کرتا تھا مگر اب اپنے لیکچروں میں خدا کی کبریائی اور بڑائی بیان کرتا ہے۔اور پہلے ڈارون کی تھیوری کا قائل تھا مگر اب کیفیت یہ ہے کہ ڈارون کا قول ہے اس طرح ذکر کر کے بات کرتا ہے۔اور اپنے لیکچروں میں یہ شروع کر دیا ہے جو حضرت مسیح موعود نے اس کو سمجھایا تھا کہ حقیقت میں انسان اپنی حالت میں خود ہی ترقی کرتا ہے۔تو یہ ڈاکٹر صاحب بعد میں حضرت مفتی صاحب سے رابطہ میں رہے گو کہ صحیح ریکارڈ نہیں ہے لیکن غالب امکان ہے کہ حضرت مسیح موعود کی صحبت کی وجہ سے ایمان لے آئے تھے اور مسلمان ہو گئے تھے۔ان کے پوتے اور پوتی کو جب پتہ چلا ان سے رابطہ کیا ان کو بتایا کہ میں اس طرح آ رہا ہوں اور ملنا بھی ہے تو انہوں نے بھی ملنے کا اظہار کیا اور Reception میں آئے اور بعد میں دونوں بیٹھے بھی رہے باتیں ہوتی رہیں دونوں کافی بڑی عمر کے ہیں۔یعنی بڑی عمر سے مراد 60-55 سال کے۔پوتے کو زیادہ علم نہیں تھا لیکن پوتی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مسلمان ہو گئے تھے اور ہندوستان سے واپس آنے کے بعد پہلی بیوی نے علیحدگی لے لی تھی۔انہوں نے دوسری شادی ہندوستان میں کی تھی اور بتایا کہ ہم اس دوسری بیوی کی نسل میں سے ہیں۔مزید میں نے استفسار کیا کا غذات کے بارے میں کہ کس طرح مسلمان ہوئے ، کب بیعت کی ، کس طرح کیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے بہت سارے کاغذات تھے لیکن آگ لگنے کی وجہ سے وہ سارا ریکارڈ ضائع ہو گیا، کوئی خط و کتابت محفوظ نہیں ہے۔لیکن بہر حال اس بات پر انہوں نے یقینی کہا کہ ان کی موت اسلام کی حالت میں ہوئی تھی اور وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے رہے تھے۔اور اس لحاظ سے قیاس کیا جا سکتا ہے کیونکہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے تھے اس لئے احمدی ہوئے ہوں گے۔بہر حال ان کی قبر بھی وہاں قریب ہی آکلینڈ میں ایک جگہ پر ہے۔ان کے پوتے اور پوتی کو بھی لٹریچر دیا۔نیوزی لینڈ کے پریذیڈنٹ صاحب کو بھی کہا کہ ان سے رابطہ رکھیں۔اللہ کرے کہ ان لوگوں کے دل میں بھی حق کی پہچان کی طرف توجہ پیدا ہو جائے۔پھر اس سفر کا آخری ملک جاپان تھا یہاں کا بھی دورہ تھا۔یہاں بھی اللہ کے فضل سے جاپانی جو مقامی ہیں اس وقت 10-12 ہیں، جنہوں نے رابطہ کیا تھا یا رابطے میں کچھ نہ کچھ رہتے ہیں ان کے مسائل حل کرنے اور تربیتی امور پر توجہ دلانے اور اس طرح باقاعدہ باقی جماعت کو بھی تربیتی امور کی طرف توجہ دلانے کی توفیق ملی۔جلسہ بھی ہوا۔جاپانی احمدیوں میں ان دنوں میں جتنے دن میں وہاں رہا پہلے دن جوان کا رویہ تھاوہ میں دیکھتارہا ہوں ہر روز اس میں ایک تعلق اور وفا کی کیفیت بڑھتی رہی ، تبدیلی محسوس ہوتی رہی۔اللہ کرے کہ یہ لوگ بھی اپنی قوم میں اسلام کے حقیقی پیغام کو پہنچانے کا ذریعہ بن جائیں اور حضرت kh5-030425