خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 251
خطبات مسرور جلد چهارم 251 خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء کا لٹریچر سارا نہیں پڑھنے دیتے یا شائع نہیں کرتے تا کہ ان کو نبوت کے بارے میں صحیح حقیقت نہ پتہ لگ جائے۔لیکن ان سے ملاقات کے دوران میں یہ دیکھ رہا تھا کہ ان کی اہلیہ کے چہرے پر ایک تبدیلی آرہی ہے۔اور وہ تبدیلی چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔اگلے دن پھر وہ اپنے بیٹے کے ساتھ آئیں اس سے پہلے انہوں نے بیعت فارم بھی بھیج دیا اور آنسوؤں سے رونے لگیں اور کہا کہ میرا میاں تو احمدی ہوتا ہے یا نہیں۔آپ میری بیعت لے لیں مجھے آپ کی باتیں سن کر تسلی ہو گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو استقامت عطا فرمائے اور ان سب بچھڑے ہوؤں کو عقل اور سمجھ عطا کرے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام دعاوی کو ماننے والے ہوں اور حقیقت کو پہچاننے والے ہوں۔Reception کا میں نے ذکر کیا تھا۔ماؤری قبیلے کے لوگ بھی آئے ہوئے تھے جیسا کہ میں نے کہا، جو لیڈر بھی ہیں اور پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں انہوں نے بھی اس کے بعد مجھے کہا کہ ( آپ نے) اسلام کی بڑی خوبصورت تعلیم بیان کی ہے۔یہی انصاف ہے اور یہی ہم چاہتے ہیں کیونکہ وہ لوگ بڑا محروم طبقہ ہے اس لحاظ سے کہ مقامی لوگ ہیں لیکن ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں۔باہر والوں نے ان جزیروں پر بھی قبضہ کر لیا۔اللہ تعالیٰ ان کو صرف اچھا کہنے والے نہ بنائے بلکہ حقیقت کو سمجھنے والا بھی بنائے۔اس کو قبول کرنے والے ہوں۔آسٹریلیا کے ضمن میں ایک بات رہ گئی تھی۔وہاں سالو من آئی لینڈز سے چھ مقامی احمدیوں کا ایک وفد جلسے پر آیا تھا ماشاء اللہ وہ لوگ بھی اخلاص میں بڑی ترقی کر رہے ہیں۔ان میں ایک وہاں کے رائل خاندان کے ہیں جس میں سے ایک شخص چیف چنا جاتا ہے، نو احمدی ہیں۔ان کے آئندہ چیف چنے جانے کے بھی امکانات ہیں۔اچھے پڑھے لکھے ہیں اپنے پورے خاندان کے ساتھ احمدی ہوئے تھے۔وہاں اللہ کے فضل سے کافی خاندان احمدی ہو گئے ہیں۔اب سالومن آئی لینڈز میں جماعت نے گزشتہ سال زمین خرید کر مشن ہاؤس بھی خرید لیا ہے۔گھانا سے معلم بھی بھیجے ہوئے ہیں۔ان چیف کے ماتحت وہاں کچھ جزیرے بھی ہیں اور کشتیوں پر ہر جزیرے سے رابطہ ہے اور ان کا آپس میں کئی گھنٹوں کا سفر ہوتا ہے۔بہر حال اس احمدی نے اپنے چیف بننے کے لئے دعا کے لئے بھی کہا۔اللہ کرے کہ جب وقت آئے تو اللہ تعالیٰ ان کو موقع دے اور پھر ان کے ذریعے تمام جزائر کو احمدیت میں شمولیت کی توفیق بھی دے۔کیونکہ بہت سارے لوگ چیف کو بھی دیکھنے والے ہوتے ہیں۔یہ نو احمدی اخلاص میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ ان کی شکل دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ یہ نو احمدی ہیں اس طرح اخلاص ، وفا، ادب، احترام، حیا آنکھوں میں تھی اور ہر عمل سے ٹپک رہی تھی کہ دیکھ کے حیرت ہوتی تھی حالانکہ وہاں کے مقامی لوگ ہیں kh5-030425