خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 250
250 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء پڑے ہوئے تھے۔جو وزیر آئے ہوئے تھے ان موصوف سے میں نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ بظاہر تو کوئی روک نہیں ہے آپ مسجد بھی باقاعدہ بنا سکتے ہیں اور بنا ئیں۔اس وقت وہاں آکلینڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے اڑھائی ایکٹر زمین خریدی ہوئی ہے اور اس میں تعمیر بھی ہوئی ہے۔دو بڑے ہال ہیں، گو جماعت پوری کی پوری اس میں نماز پڑھ سکتی ہے دفتر ہے لائبریری وغیرہ ہے، گیسٹ ہاؤس ہے لیکن مسجد کی با قاعدہ شکل یعنی مینارے وغیرہ کے ساتھ مسجد نہیں بنائی گئی گو کہ ہال قبلہ رخ ہے۔جس طرح میں نے کہا، مشنری کی بھی ان سے بات کی تو انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ مدد کریں گے۔اب وہاں کے نیشنل پریذیڈنٹ صاحب کا کام ہے کہ ان سے رابطہ کریں۔اور مشنری بلوانے کی کوشش کریں۔اگر مبلغ آ جائیں تو تربیت میں بہت فرق پڑتا ہے۔اللہ کرے کہ یہ وزیر صاحب بھی اپنے وعدے کے پابند ر ہیں اور جماعت کسی مصلحت کا مزید شکار نہ ہو۔ویسے ماشاء اللہ اچھی مخلص جماعت ہے اور بڑی ہمت اور اخلاص سے سب نے ڈیوٹیاں وغیرہ بھی دیں۔نوجوانوں نے بھی ، ان کے لئے پہلا موقع تھا اتنے بڑے انتظام کا اور ذمہ داری کے ساتھ انتظام کو نبھانے کا اور انہوں نے نبھایا اور اچھا نبھایا۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ آسٹریلیا میں فحسین لاہوری احمدی تھے جو یہاں بھی ہیں۔نجی سے نیوزی لینڈ میں بھی آکر آباد ہوئے ہیں۔اور تین چار نسلوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ان لاہوری محین میں سے بہت سارے جماعت میں داخل بھی ہو چکے ہیں اور خلافت سے کامل اطاعت رکھتے ہیں۔وہاں ایک دو خاندان، ویسے تو کئی ہوں گے، ابھی ایک دو خاندان ایسے ہیں جو جماعت کے مزید قریب آرہے ہیں یا کم از کم تعلق کی وجہ سے آجاتے ہیں، جلسے پر بھی آئے ہوئے تھے۔ایک فیملی نے ان میں سے مجھ سے بعد میں وقت لیا۔کوئی آدھ گھنٹے تک ان کو میں نے سمجھایا۔ان کا بیٹا احمدی ہو گیا تھا۔اچھا مخلص نوجوان ہے اس نے بڑے درد سے مجھے کہا تھا کہ دعا کریں کہ میرے ماں باپ بھی احمدیت قبول کر لیں۔تو بہر حال ان کے ماں باپ سے بھی کافی تفصیلی بات ہوئی۔باپ کچھ زیادہ اکھڑ تھے، بوڑھے زیادہ نہیں تھے۔60 سال کے تھے لیکن اکھڑ پن بعض طبیعتوں میں آجاتا ہے۔اسی بات پر اڑے ہوئے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نبی نہیں ہیں اور لٹریچر انہوں نے پڑھا نہیں ہوا تھا۔ان کو میں نے کہا کہ آپ اور کچھ نہ پڑھیں ، ایک چھوٹی سی کتاب ہے ایک غلطی کا ازالہ وہ پڑھ لیں۔اور بھی کئی جگہ پر ( یہ بحث ) ہے لیکن اس سے آپ کی تسلی ہو جائے گی۔تو بہر حال انہوں نے کہا اچھا میں دیکھوں گا ، پڑھوں گا۔بیٹے نے کہا میرے پاس ہے۔باپ کہنے لگے کہ مجھے سوچنے کا موقع دیں۔ویسے وہاں مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ ان (پیغامیوں) کی جو انتظامیہ ہے اس کی طرف سے یہ ( ہدایت) ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام kh5-030425