خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 249
249 خطبات مسرور جلد چہارم خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء نئی جماعت ابھی قائم ہوئی ہے۔نبی کے جلسے پر بھی یہ لوگ آئے ہوئے تھے اور بڑے مخلص لوگ تھے۔اس بات پر کہ قریب ہی زلزلہ بھی ہے، سونامی کا خطرہ بھی ہے، پہاڑی علاقہ بھی نہیں اونچا پہاڑی علاقہ ہو تو محفوظ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔تو ان کے لئے فکر پیدا ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا نماز پڑھ کر جب واپس آئے تو خبر تھی کہ سب محفوظ ہے اور ٹونگا سے ہی کسی عورت کا پیغام بی بی سی والے سنا رہے تھے کہ یہ ختم ہو گیا۔اللہ کرے کہ دنیا اب وقت کے امام کو پہچان لے اور ان آفات سے محفوظ ہو جائے۔ورنہ آج یہاں اور کل وہاں جو طوفان آ رہے ہیں اور بظاہر جو بعض جگہوں کو بڑا نقصان نہیں ہورہا تو یہ وارننگ ہے۔اگر آج بھی خدا کو نہ پہچانا تو جو تباہیوں کے نمونے ہم نے دیکھے ہیں وہ دوبارہ بھی نظر آ سکتے ہیں۔اللہ رحم کرے۔آج ہر ملک کے احمدی کو چاہئے کہ اپنے ملک کے لوگوں کو یہ پیغام پہنچانے میں لگ جائیں ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نہ جزائر محفوظ رہیں گے، نہ یورپ محفوظ رہے گا، نہ امریکہ محفوظ رہے گا، نہ ایشیا محفوظ رہے گا۔خدا ان لوگوں کو عقل اور سمجھ دے اور وہ اپنے خدا کو پہچاننے والے ہوں۔نجی میں قریب کے جزائر میں طوالو ہے، کر باتی ہے، ٹونگا ہے جس کا میں نے ذکر کیا اور ونواٹو ہے۔یہاں سے بھی نمائندے آئے ہوئے تھے۔مالی لحاظ سے ان لوگوں کے اتنے اچھے حالات نہیں ہیں، غریب لوگ ہیں۔لیکن اس کے باوجود بعض خاندان وہاں آئے ہوئے تھے۔چند سال پہلے وہ احمدی ہوئے ہیں۔لیکن جذبات اور اخلاص کا اظہار بہت زیادہ تھا۔ان ملکوں کے نمائندوں سے بھی میٹنگ ہوئی اور تبلیغی اور تربیتی منصوبوں کے بارے میں ان کو سمجھایا۔اللہ تعالیٰ اپنا نور مکمل طور پر ان چھوٹے چھوٹے جزیروں میں پھیلا دے جہاں چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہیں اور مکمل طور پر ان کو احمدیت اور حقیقی اسلام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری حقیر کوششوں میں برکت ڈالے اور قبول فرمائے۔فنجی کے بعد نیوزی لینڈ کا دورہ تھا۔اللہ کے فضل سے یہاں کی جماعت کافی بڑھ گئی ہے اور اکثریت نجین احمدیوں کی ہے۔نجی سے لوگ مائیگریٹ (Migrate) کر کے یہاں نیوزی لینڈ آ گئے ہیں۔گو کہ یہاں ابھی تک مبلغ نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں نے اپنے آپ کو سنبھالا ہوا ہے۔اچھا انتظام کیا ہوا تھا۔یہاں بھی Reception تھی۔یہاں بھی وہی اسلام کی تعلیم بیان کرنے کی توفیق ملی۔وہاں کے مقامی ماؤری قبیلے کے جو بڑے سردار تھے اور پارلیمنٹ میں ایم پی بھی ہیں وہ بھی آئے ہوئے تھے اور ایک منسٹر بھی آئے ہوئے تھے۔ابھی تک مقامی جماعت مسجد کی باقاعدہ شکل بنانے اور مبلغ بلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔اور زیادہ تر ان کے نزدیک حالات کی وجہ سے مصلحت کے چکر میں وہ kh5-030425