خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 245
خطبات مسرور جلد چهارم 245 خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء پروگرام کئے اور کر رہے ہیں اس سے عرب تو بہت خوش ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ذریعہ سے بہت سی بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔لیکن ہمارے احمدی بھائی جو اس پروگرام کے لئے عرب ملکوں سے آتے ہیں ان کو وہاں انتظامیہ اور حکومت یا حکومتی ادارے کافی تنگ کر رہے ہیں۔ضمنا یہ ذکر آ گیا ہے اس لئے ان کے لئے بھی جماعت کو کہتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔سنگا پور کے بعد آسٹریلیا کا دورہ تھا۔یہ ایک وسیع ملک ہے، براعظم ہے، اس لئے یہاں دو ہفتے کا پروگرام بنایا گیا تھا لیکن میرے خیال میں یہ دو ہفتے بھی کم تھے۔آسٹریلیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالا نہ بھی ہوا۔اور اس دفعہ تو وہاں باہر سے بھی کافی لوگ آ کر شامل ہوئے تھے۔وہاں ہماری سڈنی میں جو مسجد ہے، بڑی خوبصورت اور بہت بڑی مسجد ہے اور مین روڈ کے اوپر ہی تقریب واقع ہے اس کا نظارہ بڑا خوبصورت نظر آتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت جب روشنی ہو۔بلند مینار ہے اور ساتھ گنبد۔جماعت کو یہ بہت اچھی جگہ مل گئی ہے اور اس جگہ کا رقبہ تقریباً28 را یکڑ ہے۔اس مسجد کا افتتاح بھی حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔اب جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے آسٹریلیا جماعت کا اس پلاٹ میں ایک ہال تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔اس کا سنگ بنیاد بھی میں نے رکھا۔ان کا ارادہ یہ خلافت جو بلی سے پہلے تیار کرنے کا ہے۔اور اس کا نام بھی انہوں خلافت سینٹینری ہال (Khilafat Centenary Hall) رکھا ہے۔اس عمارت میں گیسٹ ہاؤس بھی ہو گا، ہال بھی ہوں گے، ذیلی تنظیموں کے دفاتر بھی ہوں گے اور دیگر ضروریات بھی ہوں گی۔یہ کافی بڑا منصوبہ ہے۔پھر بریسبن میں دس ایکڑ زمین کا ایک رقبہ خریدا گیا اس میں بھی نمازوں کے لئے ہال اور مشن ہاؤس اور گیسٹ ہاؤس وغیرہ تعمیر کیا گیا ہے۔اس سارے کمپلیکس کا بھی افتتاح ہوا۔اسی طرح ایڈیلیڈ میں بھی جماعت نے جگہ حاصل کی ہے۔تقریباً 20 ایکڑ جگہ ہے۔یہاں فی الحال عارضی تعمیر کی گئی ہے، آئندہ انشاء اللہ یہاں بھی مسجد کا منصوبہ ہے لیکن جگہ اچھی ہے۔یہاں پر اولو (Olive) کا پرانا باغ لگا ہوا تھا۔پلا پلا یاز میتون (Olive) کا باغ بھی ان کو مل گیا۔پھر سڈنی میں اور کینبرا میں ریسیپشن (Reception) بھی ہوئی۔سڈنی کی Reception مسجد کے احاطے میں ہی تھی۔و ہیں مہمان آئے تھے اور کینبرا کی Reception وہاں کے نیشنل میوزیم نے آرگنا ئز کی تھی۔ایم ٹی اے پر آپ نے کچھ دیکھا بھی ہوگا۔دونوں جگہ اچھے پڑھے لکھے لوگ، سیاستدان اور مختلف ملکوں کے ایمبیسیڈ رز آئے ہوئے تھے۔آسٹریلیا میں کافی تعداد میں جین احمدی بھی اب آ کر آباد ہو گئے ہیں اور اسی طرح دوسرے جیئن بھی جن میں لاہوری یا پیغامی جماعت کے ہمارے سے ہٹے ہوئے دوست بھی کافی آباد ہوئے ہیں۔تو اس Reception میں بھی دو خاندان لاہوری احمدیوں کے آئے ہوئے تھے ، اچھے شریف kh5-030425